ھُوَ یَضْرِبُ۔ لَنْ یَضْرِبَ۔ لَمْ یَضْرِبْ۔
(۲)مفردناقص واوی یایائی(۳)(جوتثنیہ وجمع وواحدمؤنث مخاطب نہ ہو)۔
جیسے:
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔ جزم سکون اور آخری حرف کے حذف کرنے دونوں کو شامل ہے۔ جیسے:لَمْ یَضْرِبْ اور لَمْ یَغْزُ۔ کیونکہ سکون سے مراد وہ سکون ہے جو عامل کی وجہ سے آئے ورنہ وقف کے لیے سکون تو ماضی پر بھی آجاتاہے۔ فعل مضارع کے چودہ صیغوں میں سے دو صیغے مبنی ہیں:جمع مؤنث غائب اور حاضر۔ اسی طرح جب فعل مضارع نون تاکید کے ساتھ ہوتو مبنی ہوگا۔ باقی بارہ صیغوں میں سے سات صیغوں میں ضمیر بارز اور نون اعرابی ہے۔ تثنیہ کے چار صیغوں میں الف، جمع مذکر کے دو صیغوں میں واو اور واحد مؤنث حاضر میں یاء ضمیر بارز ہے اورپانچ صیغے:یَضْرِبُ، تَضْرِبُ، أَضْرِبُ، نَضْرِبُ۔ ضمیر بارز سے مجرد (خالی )ہیں، ان میں ضمیر مستتر ہے۔
صحیح وہ فعل مضارع ہے جس کے آخر میں واؤ الف اور یاء نہ ہو۔ حرف ناصب فعل مضارع کو نصب اور حرف جازم جزم دے گا۔ جیسے:لن یَضْرِبَاورلم یَضْرِبْ۔
2۔۔۔۔۔۔ فعل مضارع کی دوسری قسم وہی پانچ صیغے ہیں جو ضمائر بارزہ سے خالی ہوں لیکن بجائے صحیح کے معتل واوی یا یائی ہوں خواہ ان میں حرف علت لام کلمہ کے مقابل ہو۔ جیسے:یَغْزُوْ(وہ جہاد *