Brailvi Books

نحو مِير
56 - 202
(۱۴)غیرجمع مذکر سالم: جویائے متکلم کی طرف مضاف ہو۔جیسے:
غُلاَمِیْ۔
    ان دونوں اسماء کی حالت رفعی ضمہ تقدیری سے، حالت نصبی فتحہ تقدیری سے اور حالت جری کسرہ تقدیری سے آتی ہیں اور لفظاً یہ دونوں تینوں حالتوں میں برابر رہتے ہیں۔ جیسے:
جَاء َ مُوْسیً وَغُلاَمِی.

رَأَیْتُ مُوْسیً وَغُلاَمِی.

مَرَرْتُ مُوْسیً وَغُلاَمِی.
 (۱۵)اسم منقوص (۱):

     وہ اسم جس کے آخرمیں یاء ماقبل مکسورہو۔جیسے: قَاضِیْ۔ اس کی حالت رفعی ضمہ تقدیری سے، حالت نصبی فتحہ لفظی سے اور حالت جری کسرہ تقدیری سے آتی ہے ۔جیسے :
جَاء َ الْقَاضِیْ۔ رَأَیْتُ الْقَاضِیَ۔ مَرَرْتُ بِالْقَاضِیْ۔
  ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*	 اَلْمُوْسٰی۔اسم مقصورسے یہاں وہ اسم مراد نہیں جس کے آخر الف مقصورہ زائدہ ہوجیسے حبلی کیونکہ وہ تو غیر منصرف ہوتاہے،نیز اس مثال میں لفظ موسی حضرت عیسٰی علی نبیناوعلیہ الصلاۃ والسلام کا علم مبارک نہیں بلکہ ایساء مصدر سے اسم مفعول ہے جو کہ الف لام کے ساتھ الموسی اور بغیر الف لام کے موسی لکھا جاتاہے۔ چودہویں قسم غیر جمع مذکر سالم مضاف بیائے متکلم :جیسے:غُلاَمِی ، رِجَالِی۔ 

1۔۔۔۔۔۔اسم متمکن کی پندرہویں قسم اسم منقوص منصرف ہے: وہ اسم جس کا آخر یاء اور ماقبل مکسور ہو، یاء کبھی لفظا ًہوگی۔ جیسے:اَلْقَاضِیْ اور کبھی تقدیرا ً۔جیسے:قَاضٍ کہ اصل میں قَاضِیٌ تھا ضمہ یاء پر ثقیل تھا گرگیا، دو ساکن جمع ہوگئے یاء اور نون تنوین یاء مدہ کو حذف کردیا۔چونکہ الف لام کی موجودگی میں تنوین نہیں ہوگی اور دو ساکن بھی اکھٹے نہیں ہوں گے اس لیے یاء باقی رہے گی ۔

(مثال):جَاءَ القَاضِی ۔رَأیتُ القَاضِی۔ مَرَرتُ بِالقَاضِی۔اس کارفع ضمہ تقدیری،نصب فتحہ لفظی اور جر کسرہ تقدیری کےساتھ ہے۔
Flag Counter