ان تینوں اسماء کی حالت رفعی واؤ ما قبل مضموم سے اور حالت نصبی وحالت جری یاء ما قبل مکسور سے آتی ہیں۔جیسے:
جَاء َنِیْ مُسْلِمُوْنَ وَأُولُوْ مَالٍ وَعِشْرُوْنَ رَجُلاً۔
رَأَیْتُ مُسْلِمِیْنَ وَأُولِیْ مَالٍ وَعِشْرِیْنَ رَجُلاً۔
مَرَرْتُ بِمُسْلِمِیْنَ وَأُولِیْ مَالٍ وَعِشْرِیْنَ رَجُلاً۔
(۱۳)اسم مقصور:
وہ اسم جس کے آخرمیں الف مقصورہ ہو (۲)۔جیسے:
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* مضاف ہوں تو تیرہویں قسم کی طرح تینوں حالتوں میں حرکات ثلاث تقدیریہ کے ساتھ اعراب آئے گاجیسے:جَاءَ کِلَا الرَّجُلَیْنِ۔ رَأَیْتُ کِلَا الرَّجُلَیْنِ۔ ومَرَرْتُ بِکِلَا الرَّجُلَیْنِ۔
1۔۔۔۔۔۔ دسویں قسم جمع مذکر سالم اورگیارہویں قسم أُولُو:یہ ذُوْ کی جمع ہے من غیر لفظہ یعنی اس میں ذُوکی جمع والا معنی پایا جاتاہے در حقیقت یہ جمع مذکر سالم نہیں ہے ؛کیونکہ اس لفظ کا مفردنہیں ہے یہ ملحق بجمع مذکر سالم ہے۔ بارہویں قسم عِشْرُوْنَ تا تِسْعُوْنَ یعنی آٹھ دہائیاں:عِشْرُوْنَ، ثَلاَثُوْنَ، أَرْبَعُوْنَ، خَمْسُوْنَ، سِتُّوْنَ، سَبْعُوْنَ، ثَمَانُوْنَ، تِسْعُوْنَ.یہ بھی جمع مذکر سالم نہیں بلکہ ملحق بجمع مذکر سالم ہیں یعنی اعراب میں جمع مذکر سالم کی طرح ہیں۔
2۔۔۔۔۔۔پہلے گزر چکا کہ الف مقصورہ وہ الف ہے جس کے بعد ہمزہ نہ ہو۔ چونکہ اسے زیادہ لمبا کرکے نہیں پڑھا جاتا اس لیے مقصورہ کہلاتاہے اس جگہ وہ اسم مراد ہے جس کے آخر میں الف مقصودہ غیر زائدہ ہو یعنی لام کلمہ سے بدلا ہوا ہو۔ تیرہویں قسم اسم مقصور ہے جیسے:مُوْسٰی اور *