:جب یہ دونوں ضمیر کی طرف مضاف ہوں۔
(۹)اثْنَانِ وَاثْنَتَانِ:
ان تینوں اسماء کی حالت رفعی الف ما قبل مفتوح سے اور حالت نصبی و حالت جری یاء ماقبل مفتوح سے آتی ہے۔ جیسے:
جَاءَ رَجُلاَنِ وَکِلاَھُمَا وَاِثْنَانِ، رَأَیْتُ رَجُلَیْنِ وکِلَیْہِمَا وَاِثْنَیْنِ، مَرَرْتُ بِرَجُلَیْنِ وَکِلَیْہِمَا وَاِثْنَیْنِ.
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* ثلاثۃسے آئے گی۔جیسے:جَاءَ آبَاءُکَ۔ رَأَیْتُ آبَاءَکَ۔ مَرَرْتُ بِآبَائِکَ۔(۴)یہ اسماء مصغر ہوں۔مثلاً:اَخٌ کی تصغیر اُخَیٌّہے ۔اس صورت میں بھی ان کی حالت رفعی، نصبی وجری حرکات ثلاث سے آئے گی ۔جیسے:جَاءَ اُخَیُّکَ۔ رَأَیْتُ اُخَیَّکَ۔ مَرَرْتُ بِاُخَیِّکَ۔
(تنبیہ)لفظ ''ذُوْ'' کی تصغیرنہیں آتی باقی پانچ اسموں کی تصغیر آتی ہے۔ (۵)یہ اسماء یائے متکلم کی طرف مضاف ہوں۔اس صورت میں ان کااعراب تینوں حالتوں میں تقدیری ہوگا۔جیسے:ھٰذَا حَمِیْ۔ رَأَیْتُ حَمِیْ۔ مَرَرْتُ بِحَمِیْ۔(۶)یہ اسماء مضاف ہی نہ ہوں۔اس صورت میں ان کی حالت رفعی،نصبی وجری حرکات ثلاث سے آئے گی ۔جیسے: جَاءَ اَبٌ۔ رَأَیْتُ اَباً۔ مَرَرْتُ بِاَبٍ۔
1۔۔۔۔۔۔ آٹھویں قسم کِلَا اور کِلْتَا ہے۔ نویں قسم اِثْنَانِ اور اِثْنَتَانِ ہے ۔آٹھویں اور نویں قسم ملحق بتثنیہ ہے۔ تثنیہ نہیں؛کیونکہ ان کا مفرد ان کے لفظ سے نہیں ہے۔
(ف)کِلَا اورکَلْتَا کا یہ اعراب اس وقت ہے جب ضمیر کی طرف مضاف ہوں اور اگر اسم ظاہر کی طرف *