Brailvi Books

نحو مِير
53 - 202
، ترکیب، وزن فعل، اور الف نون زائدتان۔ جیسے:
عُمَرُ، أَحْمَرُ، طَلْحَۃُ، زَیْنَبُ، إِبْرَاہِیْمُ، مَسَاجِدُ، مَعْدِیْکَرِبُ، أَحْمَدُ، عِمْرَانُ.
    اس کی حالت رفعی ضمہ سے اور حالت نصبی و جری فتحہ سے آتی ہیں۔ جیسے:
جَاء َ عُمَرُ، رَأَیْتُ عُمَرَ، مَرَرْتُ بِعُمَرَ.
 (۶)اسمائے ستہ مکبرہ(۱)۔ جیسے:
أَبٌ، أَخٌ، حَمٌ، ہَنٌ، فَمٌ، ذُوْمَالٍ.
    جب یہ تثنیہ یاجمع نہ ہوں اور یائے متکلم کے علاوہ کسی اوراسم کی طرف
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* منصرف پرچونکہ کسرہ اور تنوین نہیں آتے اس لیے حالت جری میں بھی اس پرفتحہ آتاہے، لیکن کہلائے گاوہ مجرور ہی ۔(ف)اگر غیر منصرف پر الف لام آجائے یا وہ مضاف ہوتوحالت جری میں اس پر لفظا بھی کسرہ آجائے گا۔ جیسے:مَرَرْتُ بِالأَحْمَدِ.مَرَرْتُ بِأَحْمَدِکُمْ.

1۔۔۔۔۔۔اسمائے ستہ، چھ اسم یہ ہیں:اَبٌ(باپ)اَخٌ(بھائی)حَمٌ(شوہر کے واسطہ سے عورت کارشتہ دار، دیور)ہَنٌ(وہ چیز جس کاذکر ناپسندیدہ ہو۔مثلاً:مرد یا عورت کی شرم گاہ یاقبیح اوصاف)فَمٌ(منہ)ذُوْمَالٍ(مال دار)۔ ان کی چند حالتیں ہیں :(۱)یہ اسماء موحدہ، مکبرہ ہوں اور یائے متکلم کے علاوہ کسی کی طرف مضاف ہوں۔یعنی نہ تثنیہ ہوں نہ جمع ،نہ ان میں یائے تصغیر ہواور نہ یائے متکلم کی طرف مضاف ہوں بلکہ اس کے علاوہ کسی اور اسم کی طرف مضاف ہوں ۔اس صورت میں ان کی حالت رفعی واوسے، حالت نصبی الف سے اور حالت جری یاء سے آئے گی۔جیسے:جَاءَ اَبُوْکَ۔ رَأَیْتُ اَبَاکَ۔ مَرَرْتُ بِأَبِیْکَ۔کتاب میں اسی صورت کااعراب بیان کیاگیاہے۔ (۲)یہ اسماء تثنیہ ہوں۔اس صورت میں ان کا اعراب وہی ہوگاجوتثنیہ کاہوتاہے۔یعنی حالت رفعی الف سے، حالت نصبی وجری یاء ساکن ماقبل مفتوح سے ۔جیسے:جَاءَ اَبَوَانِ۔ رَأَیْتُ اَبَوَیْنِ۔ مَرَرْتُ بِاَبَوَیْنِ۔(تنبیہ)اگراس صورت میں یہ یائے متکلم کے علاوہ کسی اور اسم کی طرف مضاف ہوں تو نون تثنیہ گرجائے گا۔جیسے:جَاءَ اَبَوَاکَ۔ رَأَیْتُ اَبَوَیْکَ۔ مَرَرْتُ بِاَبَوَیْکَ۔اوراگر یائے متکلم کی طرف مضاف ہوں تو حالت نصبی وجری میں ادغام بھی ہوگا۔جیسے:جَاءَ اَبَوَایَ۔ رَأَیْتُ اَبَوَیّ۔ مَرَرْتُ بِاَبَوَیّ۔(۳)یہ اسماء جمع ہوں۔اس صورت میں ان کی حالت رفعی،نصبی اورجری حرکات *
Flag Counter