Brailvi Books

نحو مِير
51 - 202
سبق نمبر: 7

(۔۔۔۔۔۔اعراب ِاسم کابیان(۱)۔۔۔۔۔۔)
    اسم کے تین اعراب ہوتے ہیں: رفع، نصب اورجر۔

    اقسام ِاعراب کے اعتبار سے اسم متمکن کی سولہ قسمیں ہیں جن کی تفصیل درج ذیل ہے:

(۱)اسم مفردمنصرف صحیح(۲)۔ جیسے:زَیْدٌ۔

(۲)مفردمنصرف جاری مجرٰی صحیح(۳)۔ جیسے:دَلْوٌ۔

(۳)جمع مکسر منصرف(۴)۔ جیسے :رِجَالٌ۔
________________________________________

1۔۔۔۔۔۔یہ اسم متمکن کی ایک اور تقسیم ہے۔خیال رہے کہ تانیث (اسم کے مؤنث ہونے )کی چار علامات ہیں اگران میں سے کوئی علامت کسی اسم کے آخرمیں پائی جائے تو اسے''مؤنث''کہاجائے گا، ورنہ ''مذکر'':(۱)الف مقصورہ:وہ الف جو اسم کے آخرمیں یاء سے پہلے کھڑے زبرکی صورت میں لکھاجاتاہے۔جیسے:حُبْلٰی۔ (۲)الف ممدودہ: وہ الف جو اسم کے آخرمیں آئے اور اس کے بعد ہمزہ ہو۔جیسے :حَمْرَاءُ۔ (۳)تاء ملفوظہ: وہ تاء جو پڑھنے میں آئے اور وقف کے وقت(ہ)بن جائے۔جیسے:ضَارِبَۃٌ۔(۴)تاء مقدرہ:وہ تاء جوکسی اسم کے آخرمیں موجود تو ہو لیکن پڑھنے میں نہ آتی ہو۔جیسے:اَرْضٌ کہ یہ اصل میں اَرْضَۃٌہے۔

1۔۔۔۔۔۔اسم کے تین اعراب ہیں:رفع ، نصب اور جر۔ اعراب کی ایک چوتھی قسم بھی ہے: جزم، لیکن وہ فعل مضارع پر آتی ہے اور یہاں اسم کے اعراب بیان کرنامقصود ہے اسی لیے مصنف نے فرمایا: کہ اسم کے اعراب تین ہیں۔ رفع فاعل ہونے کی علامت ہے ،مبتدا خبر اور دیگر مرفوعات فاعل کے ساتھ ملحق ہیں۔ نصب مفعول ہونے کی علامت ہے ،حال ، تمیز وغیرہ دیگرمنصوبات مفعول کے ساتھ ملحق ہیں۔ اورجرمضاف الیہ ہونے کی علامت ہے ، مجروربحرفِ جار مضاف الیہ کے ساتھ ملحق ہے۔ اعراب کی تعریف:وہ حرف یا حرکت جس کے ذریعے معرب کا آخر بدلتا رہتاہے یعنی ضمہ ، فتحہ، کسرہ، واو، الف اور یاء۔

2۔۔۔۔۔۔اسم متمکن کی پہلی قسم مفرد منصرف صحیح ہے۔ مفرد سے اس جگہ مراد یہ ہے کہ تثنیہ یا جمع نہ ہو، منصرف کا مطلب ہے جس اسم میں منع صرف کے دوسبب یاایک ایسا سبب موجود نہ ہوجو دو کے قائم مقام ہوتاہے۔صحیح سے مراداصطلاح نحاۃ میں وہ کلمہ ہوتا ہے جس کے آخر میں حرف علت نہ ہو ۔

3۔۔۔۔۔۔ اسم متمکن کی دوسری قسم جاری مجرائے صحیح ہے یعنی:وہ اسم جس کے آخر میں حرف علت واو یا یاء ہواور ماقبل ساکن ہو۔ جیسے:دَلْوٌ(ڈول)ظَبْیٌ(ہرن) 

4۔۔۔۔۔۔اسم متمکن کی تیسری قسم جمع مکسر منصرف ہے یعنی:وہ جمع جس کے واحد کی بناء سالم نہ ہو اور
Flag Counter