| نحو مِير |
اس میں کوئی دخل نہیں البتہ رباعی اور خماسی اسماء سے جمع تکسیرقیاس کے مطابق فَعَالِل ُکے وزن پر بنتی ہے۔ جیسے:جَعْفَرٌ سے جَعَافِرُاور جَحْمَرِشٌ سے جَحَامِرُ۔(بحذف ِحرف ِخامس)
(۲)جمع تصحیح کی تعریف:
وہ جمع جس میں واحد کی بناء سلامت رہے۔ اس کی دو قسمیں ہیں:
i۔۔۔۔۔۔جمع مذکر ii۔۔۔۔۔۔جمع مونث
(۱)جمع مذکرکی تعریف :
وہ جمع جس کے آخرمیں واؤ ما قبل مضموم او رنون مفتوح ہو۔ جیسے:مُسْلِمُوْنَ، یا یاء ماقبل مکسور اورنون مفتوح ہو۔ جیسے:مُسْلِمِیْنَ۔
(۲)جمع مؤنث کی تعریف:
وہ جمع جس کے آخر میں الف اور تاء کا اضافہ ہو۔ جیسے:مُسْلِمَاتٌ۔معنی کے اعتبار سے جمع کی اقسام (۱)
اس اعتبارسے جمع کی دو قسمیں ہیں : جمع قلت اورجمع کثرت۔
(۱)جمع قلت کی تعریف:
وہ جمع جس کا اطلاق دس سے کم افراد پرہوتاہے ۔اس کے چار اوزان________________________________________ 1۔۔۔۔۔۔اس سے پہلے لفظ کے اعتبار سے جمع کی دو قسمیں بیان کی گئی ہیں: جمع تکسیر اور جمع تصحیح۔ اب معنی کے اعتبارسے دوقسمیں بیان کی جارہی ہیں :(۱) جمع قلت (۲) جمع کثرت ۔ جمع قلت کے چھ صیغے ہیں : (۱)اَفْعُلٌ۔ جیسے : اَکْلُبٌ جمع کَلْبٌ(۲) اَفْعَالٌ۔ جیسے: اَقْوَالٌ جمع قَوْلٌ۔ (۳) اَفْعِلَۃٌ۔ جیسے: اَعْوِنَۃٌ جمع عَوَانٍ (۴) فِعْلَۃٌ۔جیسے: غِلْمَۃٌ جمع غُلاَمٌ۔ (۵،۶)دو صیغے مذکر سالم اور جمع مؤنث سالم کے جبکہ ان پر الف داخل نہ ہو ۔جیسے: مُسْلِمُوْنَ اورمُسْلِمَاتٌ۔ اگر ان پر الف لام داخل ہوتو جمع کثرت اور جمع قلت دونوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔