Brailvi Books

نحو مِير
45 - 202
سبق نمبر: 5

(۔۔۔۔۔۔جنس کے اعتبار سے اسم کی اقسام(۱)۔۔۔۔۔۔)
    اس اعتبار سے اسم کی دو قسمیں ہیں :(۱)مذکر (۲)مؤنث

(۱)اسم مذکرکی تعریف:

     وہ اسم جس میں تانیث کی کوئی علامت نہ ہو۔ جیسے : رَجُلٌ۔

(۲)اسم مؤنث کی تعریف:

    وہ اسم جس میں تانیث کی کوئی علامت ہو ۔جیسے:اِمْرَأَۃٌ۔

فائدہ:

    تانیث کی علامتیں چار ہیں:(۱)تاء ملفوظہ۔ جیسے :طَلْحَۃُ(۲)الف مقصورہ ۔ جیسے:حُبْلٰی (۳)الف ممدودہ۔ جیسے:حَمْرَاءُ(۴)تاء مقدرہ۔ جیسے :اَرْضٌ یہ اصل میں اَرْضَۃٌ تھا ؛کیونکہ اس کی تصغیر اُرَیْضَۃٌ آتی ہے ،اور اصول یہ ہے کہ تصغیر اسماء کو ان کی اصل کی طرف لے جاتی ہے۔

    خیال رہے جس اسم میں تانیث کی علامت تاء مقدرہ ہو اسے''مؤنث
________________________________________

1۔۔۔۔۔۔یہ اسم متمکن کی ایک اور تقسیم ہے۔خیال رہے کہ تانیث (اسم کے مؤنث ہونے )کی چار علامات ہیں اگران میں سے کوئی علامت کسی اسم کے آخرمیں پائی جائے تو اسے''مؤنث''کہاجائے گا، ورنہ ''مذکر'':(۱)الف مقصورہ:وہ الف جو اسم کے آخرمیں یاء سے پہلے کھڑے زبرکی صورت میں لکھاجاتاہے۔جیسے:حُبْلٰی۔ (۲)الف ممدودہ: وہ الف جو اسم کے آخرمیں آئے اور اس کے بعد ہمزہ ہو۔جیسے :حَمْرَاءُ۔ (۳)تاء ملفوظہ: وہ تاء جو پڑھنے میں آئے اور وقف کے وقت(ہ)بن جائے۔جیسے:ضَارِبَۃٌ۔(۴)تاء مقدرہ:وہ تاء جوکسی اسم کے آخرمیں موجود تو ہو لیکن پڑھنے میں نہ آتی ہو۔جیسے:اَرْضٌ کہ یہ اصل میں اَرْضَۃٌہے۔
Flag Counter