Brailvi Books

نحو مِير
39 - 202
اور قبیلہ''بنی طی''(۱)کی لغت میں ذُوْ بمعنی اَلَّذِیْآتا ہے ۔جیسے:
جَاءَ ذُوْ ضَرَبَکَ(یعنی جَاءَ اَلَّذِیْ ضَرَبَکَ)۔
    خیال رہے کہ ان اسماء موصولات میں سے لفظ اَیٌّ اور اَیَّۃٌ معرب ہیں۔

(۴)۔۔۔۔۔۔اسمائے اَفْعَال(۲): 

    اسمائے افعال کی دو قسمیں ہیں: 

    (۱)اسم فعل بمعنی امر حاضر ۔جیسے:
رُوَیْدَ، بَلْہَ، حَیَّھَلَ، ھَلُمَّ وغیرہ۔
    (۲) اسم فعل بمعنی فعل ماضی ۔ جیسے: ھَیْھَاتَ، شَتَّانَ وغیرہ۔
 ________________________________________

 ذات پر دلالت کرے جس کے سا تھ معنئ مصدری کاپایاجاناکسی زمانہ کے ساتھ خاص نہ ہو۔ جیسے:اَلصَّاءِغُ(سنار)اسم فاعل یا اسم مفعول بمعنی حدوثی پر آنے والا الف لام اسمی اور موصول بمعنی اَلَّذِیْ ہوتاہے،اوربمعنی ثبوتی پر آنے والا الف لام حرفی ہوتاہے، صفت مشبہ کی دلالت چونکہ ثبوت پر ہوتی ہے اس لیے اس پر آنے والا الف لام بھی حرفی ہے۔ (ف) الف لام اسمی واحد تثنیہ جمع مذکر اور مؤنث کے لیے آتاہے جیسا اس کا مدخول ویسا ہی یہ ہوگا۔

1۔۔۔۔۔۔''بنی طی''عرب کاایک مشہور قبیلہ ہے جس کی طرف نسبت کے لیے ''طائی ''کہاجاتاہے۔ جیسے :حاتم طائی ۔ اس قبیلے کی لغت میں ذُوْ، اَلَّذِیْ کے معنی میں آتاہے۔ 

2۔۔۔۔۔۔اسم غیر متمکن کی چوتھی قسم اسماء افعال ہیں۔ اسم فعل:وہ اسم جو فعل کے معنی میں استعمال ہوتاہے۔ مصنف نے اس کی دو قسمیں بیان کی ہیں: 

(۱)وہ اسم فعل جو''فعل امر''کے معنی میں آتاہے اس کی چار مثالیں دی ہیں :رُوَیْدَ(تو ضرور مہلت دے)بَلْہَ(تو ضرور چھوڑ)حَیَّھَلَ(تو آ)اور ھَلُمَّ(تو حاضر کر۔)

(۲)وہ اسم فعل جو فعل ماضی کے معنی میں آتاہے۔ جیسے:ھَیْھَاتَ(دور ہوا)، شَتَّانَ (جدا ہوا۔) 

(ف)یہ اسماء افعال واحد تثنیہ ، جمع ، مذکراور مؤنث کے لیے یکساں استعمال ہوتے ہیں۔

(ف)اسم فعل بعض اوقات فعل مضارع کے معنی میں بھی آتاہے۔ جیسے:اُفٍّ بمعنی اَتَضَجَّرُ (میں بیقراری محسوس کرتاہوں)، اور اُوْہْ بمعنی اَتَوَجَّعُ(میں تکلیف محسوس کرتاہوں۔)
Flag Counter