Brailvi Books

نحو مِير
34 - 202
حالت رفعی ونصبی وجری میں بدلتانہیں۔ 

فائدہ :

    تمام حروف ِ(معانی)''مبنی''ہیں، اورافعال میں سے فعل ماضی، فعل امر حاضر معروف اور فعل مضارع کے وہ صیغے بھی جن کے آخرمیں نون جمع مؤنث(نون نسوہ، نون ضمیری)یا نون تاکید(ثقیلہ یاخفیفہ)ہو'' مبنی'' ہوتے ہیں۔

    نیزخیال رہے کہ اسم غیر متمکن مبنی ہے اور اسم متمکن جب ترکیب میں واقع ہو معرب ہے۔ اور فعل مضارع بھی معرب ہے جبکہ نون جمع مؤنث و نون تاکید (ثقیلہ وخفیفہ)سے خالی ہو ۔ 

    خلاصۀ کلام یہ کہ ان دوچیزوں(اسم متمکن مرکب مع الغیراورفعل مضارع مذکور )کے سوا کلام عرب میں کوئی کلمہ معرب نہیں بلکہ ان کے علاوہ تمام کلمات مبنی ہیں۔

اسم غیر متمکن کی تعریف :

    اسم غیر متمکن وہ اسم جو مبنی الاصل کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے(۱)۔
________________________________________

ہوگا:(۱)واحد مذکر غائب جیسے:یَضْرِبَنَّ(۲)واحد مؤنث غائب ۔جیسے:تَضْرِبَنَّ(۳)واحد مذکر حاضر۔ جیسے :تَضْرِبَنَّ۔ (۴-۵)متکلم کے دو صیغے ۔جیسے:اَضْرِبَنَّ، نَضْرِبَنَّ۔ علاوہ ازیں بعض حضرات نے ''جملہ''اور ''اسم غیر مرکب ''(جیسے:زَیْدٌ، رَجُلٌ، شَجَرٌ)کو بھی مبنی الاصل میں شمار کیاہے۔اس طرح مبنی الاصل کی کل چھ قسمیں بن جاتی ہیں۔اور مشابہ مبنی الاصل (جسے اسم غیر متمکن بھی کہتے ہیں) کی آٹھ قسمیں ہیں جن کابیان عنقریب آئے گا۔ 

1۔۔۔۔۔۔مبنی الاصل کے ساتھ مشابہت کی کئی صورتیں ہیں:(۱)کسی اسم میں مبنی الاصل کا معنی پایا جائے۔ جیسے:اَیْنَ کہ اس میں ہمزہ استفہام کا معنی ہے، اوراَحَدَ عَشَرَ کے دوسرے جزء میں
Flag Counter