________________________________________
حرف عطف کا معنی ہے۔ (۲)حرف کی طرح اسم اپنا معنی معین کرنے میں غیر کا محتاج ہو۔ جیسے:تمام اسمائے اشارات و اسمائے مضمرات اور اسمائے موصولات کہ ان کا معنی معین کرنے کے لیے مشار الیہ اور مرجع اور صلہ کی حاجت ہوتی ہے۔
1۔۔۔۔۔۔اسم غیر متمکن کی آٹھ قسمیں ہیں:پہلی قسم ضمیر ہے۔ ضمیر:وہ اسم جس کی وضع متکلم یا مخاطب یا غائب کے لیے ہو۔اسے''مضمر''بھی کہتے ہیں۔ اور ضمیر غائب جس کی طرف راجع ہو اسے ''مرجع ''(بکسرِجیم )کہتے ہیں۔ (ف) ضمیر کا اعراب محلی ہوتاہے ۔اعراب محلی کا مطلب یہ ہوتاہے کہ کوئی اسمِ مبنی ایسی جگہ پر آجائے کہ اس جگہ اگر اسم معرب آتاتو اس پر اعراب آجاتا، ضمیر اگر محل رفع میں واقع ہو یعنی فاعل، نائب فاعل یا مبتدا واقع ہو اسے''ضمیر مرفوع ''کہتے ہیں۔ اور اگر محل نصب میں واقع ہو تو اسے ''ضمیر منصوب''کہتے ہیں اور اگر محل جر میں واقع ہو یعنی مضاف الیہ ہو یا حرف جر کے بعد آئے تو اسے''ضمیر مجرور''کہا جائے گا۔ پھرضمیر مرفوع اورضمیر منصوب کی دو دو قسمیں ہیں :اگر وہ اپنے عامل کے ساتھ ملی ہوئی ہو اور اس سے پہلے نہ آسکے تو اسے''ضمیرمرفوع متصل ''یا ''ضمیرمنصوب متصل''کہیں گے ورنہ ''ضمیرمرفوع منفصل''یا''ضمیرمنصوب منفصل''کہیں گے۔اورضمیر مجرور صرف متصل ہوتی ہے منفصل نہیں ہوتی۔اس طرح ضمیر کی کل پانچ قسمیں بنتی ہیں۔پھر ان میں سے ہر ایک واحد، تثنیہ یاجمع، مذکریامؤنث، متکلم،مخاطب یا غائب ہوتی ہے۔