Brailvi Books

نحو مِير
33 - 202
سبق نمبر: 3

(۔۔۔۔۔۔معرب اور مبنی(۱) کا بیان۔۔۔۔۔۔)
    آخری حرف کے اعتبار سے کلماتِ عرب کی دو قسمیں ہیں:معرب اور مبنی۔

(۱)مُعْرَب کی تعریف :

     وہ کلمہ جس کا آخر عامل کے بدلنے سے بدلتا رہتا ہے۔ جیسے:
جَاءَ نِیْ زَیْدٌ، رَأَیْتُ زَیْداً
اور
مَرَرْتُ بِزَیْدٍ۔
    ان مثالوں میں جَاءَ، رأَیتُ اور(بِ)عامل ہیں، زَیْدٌ معرب ہے، ضمہ اعراب ہے اور دال محل اعراب۔

(۲)مَبْنِی کی تعریف (۲):

     وہ کلمہ جس کا آخر عامل کے بدلنے سے نہ بدلے۔ جیسے:ھٰؤُلَاءِ کہ یہ
________________________________________

1۔۔۔۔۔۔ہر جملہ کے کلمات کے متعلق یہ جاننا ضروری ہے کہ وہ معرب ہیں یا مبنی؟ یہ بحث نحو میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے؛ ہم دیکھتے ہیں کہ بعض کلمات ایسے ہیں کہ ان پر مختلف عمل کرنے والے عامل یکے بعد دیگرے آتے ہیں تو ان کے آخر میں حرف یا حرکت کی تبدیلی آجاتی ہے ۔مثلاً:جَاءَ نِیْ زَیْدٌ۔ رَأَیْتُ زَیْداً۔ مَرَرْتُ بِزَیْدٍ۔ اس طرح کے کلمات کو''معرب ''یا''اسم متمکن''کہاجاتاہے۔ اوربعض کلمات پر وہی عامل آتے ہیں لیکن ان کے آخر میں کوئی تبدیلی نہیں آتی مثلاً:جَاءَ نِیْ ھٰؤُلاَءِ، رَأَیْتُ ھٰؤُلاَءِ، مَرَرْتُ بِھٰؤُلاَءِ۔ اس طرح کے کلمات کو ''مبنی''یا ''اسم غیرمتمکن''کہا جاتاہے۔

2۔۔۔۔۔۔ مبنی کی دو قسمیں ہیں:(۱)مبنی الاصل (۲)مشابہ مبنی الاصل۔ مبنی الاصل تین چیزیں ہوتی ہیں:(۱)فعل ماضی (۲)فعل امر حاضر معروف (۳)تمام حروفِ معانی۔ ان کے علاوہ چوتھی چیز فعل مضارع کوبھی مبنی الاصل مانا جاتاہے بشرطیکہ اس کے آخرمیں جمع مؤنث کا نون ہو۔جیسے:یَضْرِبْنَ اور تَضْرِبْنَ۔ یانون تاکید ہو اوردرمیان میں کوئی حرف حائل نہ ہو۔ یہ پانچ صیغوں میں
Flag Counter