Brailvi Books

نحو مِير
27 - 202
جیسے :
غُلَامُ زَیْدٍ قَائِمٌ، عِنْدِیْ اَحَدَ عَشَرَ دِرْھَماً، جَاءَ بَعْلَبَکُّ۔
    (۲) کوئی بھی جملہ دو کلموں سے کم پر مشتمل نہیں ہوتا خواہ وہ دونوں کلمے لفظاً ہوں جیسے : ضَرَبَ زَیْدٌ۔ اور زَیْدٌ قَائِمٌ۔ یا ان میں سے ایک لفظاًہو اور دوسرا تقدیراً۔ جیسے:اِضْرِبْ۔کہ اس میں ایک کلمہ تو یہی اِضْرِبْ ہے اور دوسرا کلمہ اَنْتَ ضمیر ہے جو اس میں پوشیدہ ہے۔ ہاں !جملہ میں دو سے زیادہ کلمے ہوسکتے ہیں، اور زیادتی کی کوئی حد نہیں (۱)ہے۔

    (۳)نیز جب کسی جملے میں بہت سے کلمات ہوں توان میں باہم امتیاز پیدا کرنا چاہیے کہ یہ اسم ہے، فعل ہے یا حرف، اسی طرح دیکھنا چاہیے کہ معرب ہے یا مبنی، عامل ہے یا معمول ،نیزسمجھنا چاہیے کہ کلمات کاآپس میں کیا تعلق ہے؟ تاکہ مسند اور مسند الیہ کاپتا چلے اور جملہ کا معنی اور مطلب تحقیقی انداز میں معلوم ہوسکے۔
________________________________________

1۔۔۔۔۔قولہ: (زیادتی کی کوئی حدنہیں)مثلاً:ضَرَبَ(فعل)زَیْدٌ(فاعل)عَمْرواً(مفعول بہ)ضَرْباً شَدِیْداً(مفعول مطلق نوعی)فِیْ دَارِہٖ(جار مجرور)اَمَامَ الاَمِیْرِ(مفعول فیہ مکانی )تَاْدِیْباً(مفعول لہ)وَسَوْطاً(مفعول معہ)رَاکِباً(حال)یہ جملہ نو اجزاء پر مشتمل ہے آخر سے ایک ایک جزء کم کرتے جائیں تو آٹھ، سات اور چھ اجزاء پر مشتمل جملے کی مثالیں بنتی جائیں گی یہاں تک کہ صرف دو جزء رہ جائیں گے۔ جملہ میں اگر دو سے زیادہ اجزاء ہوں توچند امور خاص طور پر قابل غور ہوں گے۔ (۱)ہر جزء کے بارے میں معلوم ہونا چاہیے کہ اسم ہے یافعل یاحرف۔(۲)معرب ہے یا مبنی(۳)عامل ہے یا معمول (۴)کلمات کا آپس میں کیا تعلق ہے تاکہ مسند الیہ اور مسند کا پتا چل جائے اور جملہ کا معنی صحیح طور پر معلوم ہو جائے ۔
Flag Counter