Brailvi Books

نحو مِير
26 - 202
''مضاف الیہ ''کہتے ہیں ۔ اور مضاف الیہ ہمیشہ''مجرور''ہوتاہے۔

(۲)مرکب بنائی کی تعریف :

     و ہ مرکب غیر مفید جس میں دو اسموں کوملاکر ایک کردیا گیا ہواوران میں سے دوسرا اسم کسی حرف کو شامل ہو۔ جیسے :
اَحَدَ عَشَرَ۔
سے
تِسْعَۃَ عَشَرَ۔
جواصل میں
''اَحَدٌ وَعَشَرٌ''
اور
''تِسْعَۃٌ وَعَشَرٌ''
تھے ؛درمیان سے واؤ کو حذف کرکے دونوں اسموں کو ایک کردیا گیا ہے۔اس مرکب بنائی کے دونوں جز ء''مبنی بر فتح'' ہوتے ہیں۔سوائے
اِثْنَا عَشَرَ۔
کے؛کیونکہ اس کا پہلا جزء ''معرب'' اور دوسرا'' مبنی بر فتح'' ہوتاہے ۔
 (۳)مرکب منع صرف کی تعریف :
     و ہ مرکب غیر مفید جس میں دو اسموں کوملاکر ایک کردیا گیا ہواوران میں سے دوسرا اسم کسی حرف کو شامل نہ ہو۔ جیسے:
بَعْلَبَکُّ۔
اور
حَضْرَ مُوْتُ۔
اکثر علماء (۱)کے نزدیک اس کا پہلاجزء'' مبنی بر فتح ''اور دوسراجزء ''معرب''ہوتاہے۔

تنبیہ :

    (۱)خیال رہے کہ مرکب غیر مفید ہمیشہ جملہ کا کوئی جزء واقع ہوتاہے۔
 _______________________________

1 ۔۔۔۔۔۔ (اکثر علماء کے نزدیک).اس میں علماء کے اختلاف کی طرف اشارہ ہے ایک مذہب تو یہی ہے جو مصنف کا مختار ہے کہ اس کا پہلا جزء مبنی بر فتح اور دوسرا جزء معرب باعراب غیرمنصرف ہے۔ کہا جائے گا:ھٰذَا بَعْلَبَکُّ۔ رَأَیْتُ بَعْلَبَکَّ۔ ومَرَرْتُ بِبَعْلَبَکَّ۔اور بعض علماء کہتے ہیں کہ دونوں جزء معرب ہیں پہلا جزء مضاف دوسرا جز مضاف الیہ اور منصرف ہے۔ کہا جائے گا:ھٰذَا بَعْلُبَکٍّ۔ رَأَیْتُ بَعْلَبَکٍّ۔ ومَرَرْتُ بِبَعْلِبَکٍّ۔ تیسرا مذہب بھی بعینہ یہی ہے لیکن دوسرے جزء کو مضاف الیہ غیر منصرف کہتے ہیں۔ کہا جائے گا:ھٰذَا بَعْلُبَکَّ۔ رَأَیْتُ بَعْلَبَکَّ۔ ومَرَرْتُ بِبَعْلِبَکَّ۔
Flag Counter