لَعَلَّ عَمْرواً غَائِبٌ۔
اَلاَ تَنْزِلُ بِنَا فَتُصِیْبَ خَیْراً
وَاللہِ لَاَضْرِبَنَّ زَیْداً
(۲)مرکب غیر مفیدکی تعریف :
________________________________________
جیسے:اِضْرِب ْ(تو مار) (۲)نہی کی تعریف :وہ فعل جس کے ذریعے مخاطب سے کسی کام سے رک جانے کا مطالبہ کیا جائے۔ جیسے:لا تَضْرِبْ(تو نہ مار۔)(۳) استفہام کی تعریف:وہ جملہ جس کے ذریعے کوئی بات پوچھی جائے ۔جیسے:ھَلْ ضَرَبَ زَیْدٌ ؟(کیا زید نے مارا)(۴)تمنی کی تعریف:وہ جملہ جس کے ذریعے آرزو کا اظہار کیا جائے۔ جیسے:لَیْتَ زَیْداً حَاضِرٌ۔ (کاش !زید حاضر ہوتا۔) (۵)ترجی کی تعریف: وہ جملہ جس کے ذریعے شک کا اظہارکیا جائے۔ جیسے:لَعَلَّ عَمْرواً غَاءِبٌ۔ (شاید عمر غائب ہے۔) (ف)تمنی اور ترجی میں فرق یہ ہے کہ تمنی ممکن اورناممکن دونوں کی ہوتی ہے جبکہ ترجی صرف ممکن کی ہوتی ہے ۔(۶)عقود:عقد کی جمع ہے ۔عقد کی تعریف:وہ جملہ جس کے ذریعے کوئی سودا یا معاملہ طے کیا جائے ۔مثلاً خرید وفروخت کے وقت بیچنے والا کہے:بِعْتُ(میں نے فلاں چیز فروخت کی)اور خریدنے والا کہے:اِشْتَرَیْتُ(میں نے وہ چیز خریدی۔) (۷)ندا کی تعریف:وہ جملہ جس کے ذریعے کسی کی توجہ اپنی طرف مبذول کرانا مقصود ہو۔ جیسے:یَارَسُوْلَ اللہِ۔(ف)اس میں رسول خداعزوجل و صلی اللہ تعالی علیہ وعلی آلہ وسلم کی توجہ اپنی طرف مبذول کرانا مقصود ہے، تاکہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام اپنی توجہ سے ہمارے بگڑے کاموں کو بنادیں اسی لیے یہاں جواب ندا نہیں لاتے؛ کہ زبان حال سب کچھ بتا رہی ہے۔(۸)عرض کی تعریف:وہ جملہ جس کے ذریعے دوسرے کو کسی کام کے کرنے پر ابھارا جائے۔ جیسے:اَلاَ تَنْزِلُ بِنَا فَتُصِیْبَ خَیْراً(کیا تو ہمارے ساتھ نہیں اترے گا کہ تو بھلائی پائے۔)(۹)قسم کی تعریف:وہ جملہ جس کے ذریعے کسی محترم چیز کا ذکرکرکے اپنی بات کو پختہ کیاجائے ۔ جیسے :وَاللہِ لَاَضْرِبَنَّ زَیْداً(خدا کی قسم ! میں زید کو ضرور مارونگا)اس میں وَاللہِ قسم ہے ،اور جس بات کو پختہ کرنا مقصود ہو