Brailvi Books

نحو مِير
23 - 202
(۲)جملہ فعلیہ کی تعریف :
    وہ جملہ جس کا جزء ِاوّل فعل ہو۔ جیسے :''ضَرَبَ زَیْدٌ۔''اس کاپہلاجزء (ضَرَبَ)مسند ہے اسے''فعل'' کہتے ہیں اور اس کادوسرا جزء (زَیْدٌ)مسند الیہ ہے، اسے ''فاعل ''کہتے ہیں۔

    فائدہ: مسند حکم کو کہتے ہیں اور مسند الیہ وہ ہے جس پر حکم لگایا جائے۔ اسم مسند اور مسند الیہ دونوں بن سکتا ہے ۔فعل مسند بنتا ہے مسند الیہ نہیں بنتا۔ جبکہ حرف نہ مسند بنتا ہے اور نہ ہی مسند الیہ۔
 (۲)جملہ انشائیہ کی تعریف :
     وہ جملہ جس کے بولنے والے کو سچا یا جھوٹا نہ کہا جا سکے۔جیسے: اِضْرِبْ۔(۱) (تومار۔)
جملہ انشائیہ کی اقسام(۲)
    جملہ انشائیہ کی دس قسمیں ہیں :

    (۱) امر(۳)۔ جیسے:اِضْرِبْ۔(۲)نہی ۔جیسے : لاَ تَضْرِبْ۔
اور مسند بن سکتاہے فعل صرف مسند بنتا ہے مسند الیہ نہیں اور حرف ان میں سے کچھ بھی نہیں بن سکتا ۔ اسی لیے جملے کی صرف دو قسمیں ہیں : جملہ اسمیہ اور جملہ فعلیہ۔جملہ حرفیہ نہیں ہوگا۔ 

1۔۔۔۔۔۔اِضْرِبْ(تو مار)اس جملے میں مخاطب سے مارنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ایسے جملے کو ''جملہ انشائیہ ''کہتے ہیں۔

2۔۔۔۔۔۔مصنف نے جملہ انشائیہ کی دس قسمیں بیان کی ہیں امر ، نہی، استفہام، تمنی ، ترجی، عقود، ندا، عرض، قسم اور فعل تعجب ۔اس کے علاوہ بھی انشاء کی بعض قسمیں ہیں۔مثلاً:افعال مدح وذم انشاء مدح وذم کے لیے۔ لہذا کتاب میں دس قسموں کا ذکر حصرکے لیے نہیں ہے۔تَأمّلْ۔

3۔۔۔۔۔۔(۱)امرکی تعریف:وہ فعل جس کے ذریعے فاعل مخاطَب سے کام کرنے کا مطالبہ کیاجائے۔
Flag Counter