وہ جملہ جس کے بولنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکے۔ جیسے: زَیْدٌ قَائِمٌ۔ (زید کھڑاہے) ضَرَبَ زَیْدٌ۔ (۱) (زیدنے مارا۔)
اس کی بھی دو قسمیں ہیں: i...جملہ اسمیہ ii...جملہ فعلیہ۔
وہ جملہ جس کا جزء ِاوّل اسم ہو۔ جیسے : ''زَیْدٌ عَالِمٌ۔''(۲)اس کا پہلا جزء مسند الیہ ہے اور اسے ''مبتدا'' کہتے ہیں ۔اور اس کاجزءِ ثانی مسند ہے اور اسے''خبر ''کہتے ہیں۔
1۔۔۔۔۔۔ ضَرَبَ زَیْدٌ(زید نے مارا)یہ مرکب ہے اورسننے والے کواس سے زیدکے مارنے کی اطلاع مل گئی ۔اسی طرح:اِضْرِبْ (تومار)لاَ تَضْرِبْ(تو نہ مار)ان مثالوں میں مارنے اور نہ مارنے کی طلب معلوم ہورہی ہے ۔ اس طرح کے تمام مرکبات کو''مرکب مفید'' ، ''جملہ ''، ''مرکب کلامی''اور''کلام ''بھی کہتے ہیں ۔
2۔۔۔۔۔۔زَیْدٌ عَالِمٌ(زید عالم ہے)اس کا پہلا جزء اسم ہے اسے''مسند الیہ''کہیں گے؛ کیونکہ اس کی طرف عالم ہونے کی نسبت کی گئی ہے اوراسے '' مبتدا'' بھی کہتے ہیں ؛ اس لیے کہ اس سے ابتداء کی گئی ہے۔ دوسرے جزء کو ''مسند''کہیں گے؛ کیونکہ اس کی نسبت زید کی طرف کی گئی ہے۔ اسے ''خبر''بھی کہتے ہیں ہے؛ کیونکہ زید کے بارے میں جو اطلاع دی گئی ہے وہ یہی ہے ۔ (ف)اسم مسند الیہ