| نحو مِير |
حاشا:بمعنی جانب فعل ما ضی، ھو:ضمیر اس میں پوشیدہ راجع بسوئے ذوالحال (قوم)فاعل ،زیدا: مفعول بہ، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملیہ فعلیہ خبریہ منصوب محلا حال، ذوالحال اپنے حال سے مل کر فاعل ، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔
(134)۔۔۔۔۔۔''حَاشَا لِلّٰہِ''
ترکیب:اگر حاشا اسم ہو:حاشا:بمعنی تنزیہ مبنی بر سکون (حرف کی مشابہت کی بناء پر) مرفوع محلا، مبتدا، لام:حرف جار ،اسم جلالت (اللہ):مجرور، مجرور بواسطہجار ظرف لغو متعلقِ ثابت، اس میں ھو:ضمیر مستتر فاعل ، صیغہ صفت اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر خبر ، مبتدا اپنی خبرسے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔(ترجمہ)اللہ تعالی کے لیے پاکیزگی ہے۔
ترکیب:جاء نی:فعل اور مفعول بہ، القوم:مستثنیٰ منہ ،غیر :اسم مفرد منصرف صحیح منصوب لفظا مضاف، زید:مضاف الیہ، مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر مستثنیٰ متصل، مستثنیٰ منہ اپنے مستثنیٰ سے مل کر فاعل، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔
جاء نی القوم غیر حمار
کی ترکیب اسی طرح کی جائے ۔غیر حمار مستثنیٰ منقطع ہے۔
(136)۔۔۔۔۔۔''مَا جَاءَ نِیْ غَیْرَ زَیْدِنِ الْقَوْمُ''
ترکیب:ما جاء نی:حسب سابق ،غیر زید:مرکب اضافی مستثنیٰ متصل مقدم ،القوم:مستثنی منہ مؤخر ، مستثنیٰ مؤخر اپنے مستثنیٰ مقدم سے مل کر فاعل ، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔