Brailvi Books

نحو مِير
20 - 202
سبق نمبر: 1

(۔۔۔۔۔۔لفظ کی اقسام۔۔۔۔۔۔)
    جان لے(۱) اے طالب علم !
اَرْشَدَکَ اللہُ تَعَالٰی
کہ کلام عرب میں استعمال ہونے والے لفظ (۲)کی دو قسمیں ہیں: مفرد اورمرکب۔
طفیل ملتی ہیں۔ اعلی حضرت عظیم البرکت ،مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں :

   ذکرسب پھیکے  جب تک نہ مذکور ہونمکین حسن والا ہمارا  نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ سلم

1۔۔۔۔۔۔ جان لے، چونکہ بچہ طبعی طور پر کھیل کود کی طرف مائل ہوتاہے ۔ اس کی طبیعت پڑھنے کی طرف مائل نہیں ہوتی اس لیے اسے سبق کی طرف مائل کرنے کے لیے تنبیہ کی جارہی ہے ساتھ ہی اسے دعا بھی دیدی''أرْشَدَکَ اللہُ تَعَالٰی''(اللہ تعالی تجھے ہدایت فرمائے ۔)تاکہ اسے محسوس ہو کہ مصنف اور استاد میرے ہمدرد اور خیر خواہ ہیں اور اسے شوق پیدا ہو۔ (تنبیہ)ضروری ہے کہ ''نحو میر'' پڑھنے سے پہلے طالب علم تین مرحلے طے کر چکا ہو:(۱)عربی زبان کے مفرد الفاظ کا اچھا خاصا ذخیرہ اسے یاد ہو۔(۲)اسے معلوم ہو کہ ماضی مضارع وغیرہ مصدر سے کس طرح بنائے جاتے ہیں اور ان کی گردانیں صرف صغیر اور کبیر یاد ہوں۔ (۳)صرف کے ضروری قواعد یاد ہوں مثلا ًسہ اقسام ، شش اقسام، ،ہفت اقسام ، صحیح، معتل ، مہموز ، اور مضاعف کے قواعد یاد ہوں۔ تب اسے ''نحو میر''پڑھنے سے تین فائدے حاصل ہوں گے:(۱)عربی عبارت کی ترکیب کا طریقہ معلوم ہوگا۔ مثلاً فعل ، فاعل ، مفعول ، مبتدا ، خبر جملہ اسمیہ وفعلیہ وغیرہ۔(۲)اسم ، فعل اور حرف کے بارے میں معلوم ہوگا کہ معرب ہے یا مبنی، پھر معرب ہے تو اسے کس طرح پڑھنا ہے اور مبنی ہے تو کس حالت پر۔(۳)قواعد عربیہ کے مطابق عبارت پڑھنے اور بولنے کا ملکہ حاصل ہوگا۔ (تنبیہ)یہ فوائد اسی وقت حاصل ہونگے جب استاد طالب علم کو اول سے آخر تک''نحو میر'' یاد کرائے، باربار سنے ، صیغے دریافت کرے اورجہاں کہیں عربی عبارات اور مثالیں آئیں ان کی ترکیب بھی کرائے۔یہاں تک کہ طالب علم اس میں خوب ماہر ہو جائے۔مثلا ًآج کے سبق میں اَرْشَدَ صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مزید صحیح از باب افعال۔ 

2۔۔۔۔۔۔زبان کسی جگہ اعتماد کرکے جو آواز نکالتی ہے اسے''لفظ''کہتے ہیں ۔اس کی دو قسمیں ہیں:
Flag Counter