مقدرہے، سابقہ عبارت اس پر قرینہ ہے۔ ترکیب حسب سابق۔
(126)۔۔۔۔۔۔''جَاءَ نِیْ الْقَوْمُ مَا خَلاَ زَیْداً''
ترکیب:جاء نی:فعل اور مفعول بہ، القوم:فاعل، ما:مصدریہ موصول حرفی،
حسب سابق فعل، فاعل اور مفعول بہ مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر صلہ، ما موصول حرفی اپنے صلہ سے مل کر بتاویل مفرد مضاف الیہ برائے مضاف مقدر کہ وقت ہے، مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر مفعول فیہ، فعل اپنے فاعل، مفعول بہ اور مفعول فیہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔
(127)۔۔۔۔۔۔''جَاءَ نِیْ الْقَوْمُ لاَ یَکُوْنُ زَیْداً''
جاء نی القوم لا یکون زیدا:
فعل ناقص اپنے اسم اورخبر سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کرحال۔ اسی طرح
جَاءَ نِی الْقَوْمُ لَیْسَ زَیْداً
(128)۔۔۔۔۔۔''مَا جَاءَ نِیْ اَحَدٌ اِلَّا زَیْداً وَاِلَّا زَیْدٌ''
ترکیب:ما:حرف نفی، جاء نی: فعل اور مفعول بہ، احد: فاعل مستثنیٰ منہ، الا:حرف استثناء ،زیدا:مستثنیٰ متصل، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا، والا زید میں واؤ کے بعد سابقہ عبارت کے قرینہ سے
مقدر ہے، احد:مبدل منہ، الا:حرف استثناء، زید:بدل البعض، مبدل منہ اپنے بدل سے مل کر فاعل، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔