کی ترکیب کی جائے ، یہ جملہ شرطیہ معطوفہ مفصلہ ہوگا۔
(117)۔۔۔۔۔۔''لَوْ کَانَ فِیْہِمَا اٰ لِہَۃٌ اِلاَّ اللہُ لَفَسَدَتَا''
ترکیب:لو:حرف شرط مبنی برسکون ،کان:(صیغہ؟)فعل ناقص ،فی:حرف جار، ھما، ھا:ضمیر مجرور متصل مجرورِجار، میم:حرف عماد، الف:علامت تثنیہ ، مجرور بواسطہجار ظرف مستقر متعلق ِمتصرفہ، اور وہ صیغہ صفت، ھی:ضمیر اس میں پوشیدہ فاعل راجع بسوئے آلھہ ، صیغہ صفت اپنے فاعل اورمتعلق سے مل کر خبر مقدم ،الھۃ:جمع مکسر منصرف مرفوع لفظا موصوف ،الا:بمعنی غیرمضاف مرفوع محلا، اللہ اسم جلالت:مجرور تقدیرا مضاف الیہ، جو رفع إِلاَّ پر آنا تھا وہ اسم جلالت پر لفظا آگیا، مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر صفت، موصوف اپنی صفت سے مل کر اسم مؤخر، فعل ناقص اپنے اسم مؤخر اور خبر مقدم سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر شرط، لام:جوابیہ، فسدتا:(صیغہ؟)فعل ،تاء: علامت تانیث ،الف :ضمیر مرفوع متصل بارز فاعل، فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر جزا، شرط اپنی جزا سے مل کر جملہ شرطیہ ہوا۔
(118)۔۔۔۔۔۔''لَوْلاَ عَلِیٌّ لَہَلَکَ عُمَرُ''
ترکیب:لولا:امتناعیہ، علی اسم مفرد منصرف جاری مجری صحیح مرفوع بضمہ لفظا