Brailvi Books

نحو مِير
195 - 202
اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ ہوکر شرط اس کی جزا محذوف ہے ،شرط اپنی جزا کے ساتھ مل کر جملہ شرطیہ ہوا۔ جزائے محذوف پرقرینہ جملہ
قولی لقداصابن
ہے جس کے درمیان شرط واقع ہے۔
(115)۔۔۔۔۔۔''اِضْرِبَنَّ''
ترکیب:اضربن، اضرب:فعل امر مبنی برسکون ، اس جگہ التقائے ساکنین سے بچنے کے لیے فتحہ آگیا ہے، نون:ثقیلہ مبنی بر فتح، انت پوشیدہ،اس میں اَن:ضمیر فاعل، تاء:علامت خطاب ،فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہوا۔(ترجمہ)تو ضرور مار۔
(116)۔۔۔۔۔۔''فَمِنْہُمْ شَقِیٌّ وَسَعِیْدٌ فَاَمَّا الَّذِیْنَ شَقُوْا فَفِیْ النَّارِ''
ترکیب:فا :حرف تفصیل، من:حرف جار، ھم میں ھا:ضمیر مجرور متصل، مجرور، میم: علامت جمع مذکر ،مجروربواسطہ جار ظرف مستقر متعلق ثابتان ، اور وہ اسم مثنی اسم فاعل، ھما:اس میں پوشیدہ، ھا:ضمیر مرفوع متصل فاعل ،میم :حرف عماد ،الف:علامت تثنیہ ، صیغہ صفت اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر خبر مقدم،شقی:اسم مفرد منصرف جاری مجری صحیح مرفوع بضمہ لفظا بسبب ابتداء ، معطوف علیہ، واؤ:حرف عطف، سعید:اسم مفرد منصرف صحیح مرفوع بضمہ لفظا بسبب ِاتباع ،معطوف، معطوف علیہ با معطوف مبتدا مؤخر، مبتدا مؤخر اپنی خبر مقدم سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ مجملہ ہوا، فا :حرف تفصیل، اما: حرف شرط مبنی بر سکون برائے تفصیل جس کی شرط وجوبا محذوف ہے، الذین:اسم موصول، شقوا:صیغہ جمع مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مجرد ناقص یائی از باب
سمع یسمع ،
فعل ،واو:ضمیر مرفوع متصل بارز فاعل ، فعل اپنے فاعل سے مل کر صلہ (جس کے لیے محل اعراب نہیں)،موصول اپنے
Flag Counter