ترکیب:اضربن، اضرب:فعل امر مبنی برسکون ، اس جگہ التقائے ساکنین سے بچنے کے لیے فتحہ آگیا ہے، نون:ثقیلہ مبنی بر فتح، انت پوشیدہ،اس میں اَن:ضمیر فاعل، تاء:علامت خطاب ،فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہوا۔(ترجمہ)تو ضرور مار۔
(116)۔۔۔۔۔۔''فَمِنْہُمْ شَقِیٌّ وَسَعِیْدٌ فَاَمَّا الَّذِیْنَ شَقُوْا فَفِیْ النَّارِ''
ترکیب:فا :حرف تفصیل، من:حرف جار، ھم میں ھا:ضمیر مجرور متصل، مجرور، میم: علامت جمع مذکر ،مجروربواسطہ جار ظرف مستقر متعلق ثابتان ، اور وہ اسم مثنی اسم فاعل، ھما:اس میں پوشیدہ، ھا:ضمیر مرفوع متصل فاعل ،میم :حرف عماد ،الف:علامت تثنیہ ، صیغہ صفت اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر خبر مقدم،شقی:اسم مفرد منصرف جاری مجری صحیح مرفوع بضمہ لفظا بسبب ابتداء ، معطوف علیہ، واؤ:حرف عطف، سعید:اسم مفرد منصرف صحیح مرفوع بضمہ لفظا بسبب ِاتباع ،معطوف، معطوف علیہ با معطوف مبتدا مؤخر، مبتدا مؤخر اپنی خبر مقدم سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ مجملہ ہوا، فا :حرف تفصیل، اما: حرف شرط مبنی بر سکون برائے تفصیل جس کی شرط وجوبا محذوف ہے، الذین:اسم موصول، شقوا:صیغہ جمع مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مجرد ناقص یائی از باب
فعل ،واو:ضمیر مرفوع متصل بارز فاعل ، فعل اپنے فاعل سے مل کر صلہ (جس کے لیے محل اعراب نہیں)،موصول اپنے