:مفعول مطلق اور الآن ظرف زمان مفعول فیہ۔
(114)۔۔۔۔۔۔''اَقِلِّی اللَّوْمَ عَاذِلَ وَالْعِتَابَنْ وَقُوْلِیْ اِنْ اَصَبْتُ لَقَدْ اَصَابَنْ ''
ترکیب:اقلی:صیغہ واحد مؤنث حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مزید فیہ مضاعف ثلاثی از باب افعال، یاء:ضمیر مرفوع متصل، مرفوع محلا فاعل ،اللوم:معطوف علیہ ،واؤ: حرف عطف ،العتابناسم مفرد باتنوین ترنم معطوف ، معطوف علیہ اپنے معطوف سے مل کر مفعول بہ ، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ جواب ندا مقدم، عاذل:دراصل یا عاذلۃ تھا ، یا:حرف ندا قائم مقام ادعوا، ادعو:فعل مضارع معتل واوی مفرد مجرد از ضمائر بارزہ مرفوع بضمہ تقدیرا، انا:ضمیر مرفوع متصل مستتر واجب الاستتار فاعل ، عاذل:منادی مفرد معرفہ مرخم مبنی بضمہ تقدیری مفعول بہ ، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہو کر جملہ ندا، واؤ: حرف عطف ،قولی: (صیغہ؟)اجوف واوی از باب نصر، فعل امر، یا ء:ضمیر واحد مؤنث مرفوع محلا فاعل، لام:حرف تاکید، قد:حرف تحقیق ،اصابن:(صیغہ؟)اجوف واوی از باب افعال، فعل باتنوین ترنم، ھو ضمیر اس میں پوشیدہ فاعل، فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ منصوب محلا مقولہ، فعل اپنے فاعل اور مقولہ سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ معطوفہ ہوا ،ان حرف شرط اصبت(صیغہ؟)فعل،تاء:ضمیرمتکلم فاعل،فعل