| نحو مِير |
واحد مذکر غائب منصوب متصل منصوب محلا مفعول بہ راجع بسوئے اسم رسالت (سیدنا ابراہیم علیہ السلام )، بلفظ، باء:حرف جار ،لفظ:معطوف علیہ یا مبدل منہ، ان: حرف تفسیر ، یا ابراھیم:بتاویل ہذا اللفظ، عطف بیان یا بدل الکل، معطوف علیہ اپنے عطف بیان سے یا کہا جائے مبدل منہ اپنے بدل سے مل کر مجرورِ جار، مجرور بواسطہ جار ظرف لغو متعلق نادینا، فعل اپنے فاعل مفعول اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا ۱۲ البشیر۔
(111)۔۔۔۔۔۔''اَلاَ تَحْفَظُ الدَّرْسَ''
ترکیب:الا:حرف تحضیض، تحفظ:فعل مضارع، انت:اس میں پوشیدہ ،ان:ضمیر مرفوع متصل فاعل ،ت:علامت خطاب ، الدرس:مفعول بہ، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔
(112)۔۔۔۔۔۔''کَلاَّ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ''
ترکیب:کلا:بمعنی حقا، سوف:حرف استقبال مبنی برفتح ،تعلمون:فعل مضارع مرفوع باثبات نون ،واؤ:ضمیر جمع مذکر حاضر مرفوع متصل بارز فاعل ، فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔
(113)۔۔۔۔۔۔''صَہٍ''
ترکیب:صہ:اسم فعل مبنی بر کسر مرفوع محلا مبتدا، اس میں انت پوشیدہ ،ان:ضمیر مرفوع محلا فاعل قائم مقام خبر ،تاء: علامت خطاب ، مبتدا اپنے فاعل قائم مقام خبر سے مل کر جملہ اسمیہ انشائیہ ہوا۔
(114)۔۔۔۔۔۔''اُسْکُتْ سُکُوْتاً مَّا فِیْ وَقْتٍ مَّا''
ترکیب:اسکت:(صیغہ؟)فعل امر ، انت اس میں مستتر ، ان:ضمیر فاعل ، تاء: