Brailvi Books

نحو مِير
18 - 202
ابتدائی باتیں 

نحوکی تعریف:
     علم نحو وہ علم ہے جس کے ذریعے اسم فعل اور حرف کے آخر کی حالت معلوم ہوتی ہے کہ اس میں تبدیلی آتی ہے یا نہیں اور کلمات کو آپس میں جوڑنے کا طریقہ معلوم ہوتا ہے۔
موضوع:
     علم کا موضوع وہ چیز ہے کہ علم میں جس کے حالات سے گفتگو کی جائے۔نحو کا موضوع کلمہ اور کلام ہے۔نحو میں کلمہ کی بحث اس اعتبار سے ہوتی ہے کہ اس کا آخر بدلتا ہے یا نہیں؟
غرض:
     عربی کلام میں لفظی خطا سے بچنا، یعنی خالص عربوں کے طریقے کے مطابق کلمات کو جوڑنا اور کلمات کے آخر میں تبدیلی لانا یا نہ لانا۔
واضع:
     نحوکے واضع حضرت علی المرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔حضرت ابوالاسْودابن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ (متوفی۶۹ھ)فرماتے ہیں:''میں نے باب مدینۃ العلم حضرت علی المرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا کہ وہ کسی فکر میں ڈوبے ہوئے ہیں۔وجہ پوچھی تو فرمایا میں نے ایک شخص کو غلط گفتگو کرتے ہوئے سنا ہے۔میں چاہتا ہوں عربی کے قواعد پر کوئی کتاب لکھی جائے ،تین دن کے بعد حاضر ہوا تو آپ نے ایک صحیفہ عنایت فرمایا جس میں اسم فعل اور حرف کی تعریف تھی اور فرمایا تم تلاش اور جستجو سے اس میں اضافہ کردو۔''سیدناابو الاسود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس میں باب عطف، نعت،تعجب،اور حروف مشبہ بالفعل کا اضافہ کیا۔جو کچھ لکھتے اسے اصلاح کے لیے حضرت علی المرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت اقدس میں پیش کردیتے۔
وجہ تسمیہ:
     جب حضرت ابوالاسودرضی اللہ تعالیٰ عنہ کافی کچھ لکھ چکے تو حضرت علی المرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:
''مَا اَحْسَنَ ھٰذَا النَّحْوَ قَدْ نَحَوْتَ''
یعنی تونے کتنے اچھے طریقے کا قصد کیا۔اسی بناء پر اس علم کا نام ''نحو'' قرار پایا۔لفظ ''نحو'' کئی معنوں میں استعمال ہوتاہے۔(۱)قصد (۲)جہت (۳)مثل (۴)نوع۔اس علم کو پہلے معنی کے اعتبار سے'' نحو'' کہا جاتاہے کیونکہ مصدر بعض اوقات اسم مفعول کے معنی میں استعمال کیا جاتاہے جیسے خلق بمعنی مخلوق اسی طرح قصد بمعنی مقصود ہے۔
Flag Counter