لا حول ولا قوۃ الا باللہ، لا:
برائے نفی جنس، حول:اس کا اسم مبنی بر فتح منصوب محلاًّ معطوف علیہ، واو:حرف عطف ،لا:زائدہ برائے تاکید نفی، قوۃ:منصوب بفتحہ لفظاً باعتبار محل قریب برائے حول معطوف ، معطوف علیہ بامعطوفِ خود اسمِ لا، الا: حرف استثناء ،باللہ :مجرور بواسط ہجار ظرف مستقر متعلقِ موجودان مقدر، صیغہ صفت بانائب فاعل ھما ضمیر مستتر خبرِ لا، اسمِلا باخبر ِخود جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔
(44)۔۔۔۔۔۔ ''یَا عَبْدَ اللہِ''
ترکیب:یا عبد اللہ، یا:حرف ندا مبنی الاصل مبنی بر سکون قائم مقام ادعو(صیغہ بیان کیا جائے)فعل مضارع معتل واوی رفعش بضمہ تقدیراً نصب بفتحہ لفظاً وجزم بحذف آخر مرفوع بضمہ تقدیراً بسبب خلووے از عوامل لفظیہ فعل، انا:ضمیر واحد متکلم مرفوع متصل مستتر واجب الاستتار اسم غیر متمکن مشابہ مبنی الاصل مبنی بر فتحہ مرفوع محلاًّ بسبب فاعلیت فاعل، عبد :اسم مفرد منصرف صحیح معرب بحرکات ثلاثہ لفظیہ منصوب بفتحہ لفظاً بسبب مفعولیت مفعول بہ مضاف ، اسم جلالت :مضاف الیہ، فعل بافاعل ومفعول بہ جملہ فعلیہ خبریہ لفظاً وانشائیہ معنی ہوا۔
میں جبلا مفعول بہ ہے ، اسی طرح باقی مثالوں میں ترکیب کی جائے۔