:اسم فعل مبنی بر فتح مرفوع محلا مبتدا، انت پوشیدہ ان:ضمیر مرفوع متصل فاعل قائم مقام خبر، تا:علامت خطاب ،زیدا:مفعول بہ۔ اسم فعل مبتدا اپنے فاعل قائم مقام خبر اور مفعول بہ سے مل کر جملہ اسمیہ انشائیہ ہوا۔
(15)۔۔۔۔۔۔ ''غُلاَمُ الَّذِیْ عِنْدِیْ''
میں الذی:موصول، عند:اسم ظرف مضاف ، یاء:ضمیر متکلم مضاف الیہ ، مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر مفعول فیہ فعل مقدر ثبت کا، فعل اپنے فاعل اور مفعول فیہ سے مل کر جملہ اور صلہ، موصول اپنے صلہ سے مل کر مضاف الیہ۔
(16)۔۔۔۔۔۔ ''جَاءَ نِیْ زَیْدٌ''
ترکیب:جَاء:صیغہ واحد مذکر غائب فعل ما ضی مثبت معروف ثلاثی مجرد اجوف یائی مہموز اللام از باب
فعل ماضی مبنی الاصل مبنی بر فتح ،نی:نو ن وقایۃ ،یاء ضمیر واحد متکلم منصوب متصل محلاً بسبب مفعولیت مفعول، زید:مفرد منصرف صحیح معرب بحرکات ثلاثۃ لفظیہ مرفوع بضمہ لفظا بسبب فاعلیت فاعل، فعل بافاعل ومفعول بہ جملہ فعلیہ خبریہ۔ ترجمہ زید میرے پاس آیا ۔
(17)۔۔۔۔۔۔ ''رَاَیْتُ دَلْواً ''
ترکیب:رأیت:صیغہ واحد متکلم فعل ما ضی مثبت معروف ثلاثی مجرد مہموز العین ناقص