Brailvi Books

نحو مِير
158 - 202
 (151)۔۔۔۔۔۔حرف توقع:

    وہ حرف ہے جو دلالت کرتاہے کہ جو خبر دی جارہی ہے مخاطب کو اس کا ہی انتظار تھا۔ یہ قَدْ ہے جو تحقیق کا فائدہ دیتاہے۔ ماضی مطلق پر آئے تو اسے بعض اوقات ماضی قریب بنادیتاہے۔ جیسے:
قَدْ رَکِبَ الْأَمِیْرُ
 (بے شک امیرا بھی سوار ہواہے)اور مضارع پر آئے تو کبھی تقلیل کا فائدہ دیتاہے۔ جیسے:
اَلْکَذُوْبُ قَدْ یَصْدُقُ
 (زیادہ جھوٹ بولنے والا کبھی سچ بول جاتاہے)۔

(152)۔۔۔۔۔۔حروف تحضیض:

    وہ حروف ہیں جن کے ذریعے متکلم، مخاطب کو کسی کام کے کرنے پر ابھارتاہے۔ جیسے:
أَلاَ تَحْفَظُ الدَّرْسَ
 (تو سبق زبانی یاد کیوں نہیں کرتا)یہ اس وقت ہے جب یہ حروف فعل مضارع پر داخل ہوں ۔اور اگر فعل ماضی پر داخل ہوں تو ان سے مقصود مخاطب کو شرمندہ کرناہوتاہے اوریہ''حروف تندیم'' کہلاتے ہیں۔ جیسے:
ھَلاَّ صَلَّیْتَ
 (تونے نماز کیوں نہیں پڑھی)یہ چار حرف ہیں:
أَلَّا، ھَلَّا، لَوْلَا، لَوْمَا۔
 (153)۔۔۔۔۔۔حروف استفہام:

    وہ حروف جن سے کوئی بات پوچھی جائے۔ اور وہ دو ہیں: ہمزہ اور ھَلْ۔

(154)۔۔۔۔۔۔حرف ردع:

    وہ حرف جو متکلم کو اس کے کلام سے روکنے کے لیے وضع کیا گیا ہو۔ جیسے کسی نے کہا :
فُلَانٌ یَبْغَضُکَ
 (فلاں تجھے نا پسند کرتاہے)اس کے جواب میں کہا جائے:کَلَّا(ہرگزنہیں )یعنی آئندہ ایسا نہ کہنا۔

(155)۔۔۔۔۔۔تنوین:

    وہ نون جو وضع کے لحاظ سے ساکن ہو ، کلمہ کے آخری حرف کی حرکت کے بعد ہو اور تاکیدکے لیے نہ ہو۔ جیسے:
زَیْدٌ(زَیْدُنْ)
کے آخر میں نون۔
Flag Counter