Brailvi Books

نحو مِير
157 - 202
اس کی ابتدا ء میں حروف ''اتین''میں سے کوئی حرف ہو ۔جیسے:
أَحْمَدُ، یَشْکُرُ، تَغْلِبُ، نَرْجِسُ۔
 (144)۔۔۔۔۔۔الف نون زائدتان:

    اسم کا اس طرح ہونا کہ اس کے آخر میں الف اور نون زائد ہوں ۔جیسے:عُثْمَانُ۔

(145)۔۔۔۔۔۔استدراک:

    کلام سابق سے پیدا ہونے والے وہم کو دور کرنا۔ جیسے:
جَاءَ زَیْدٌ لٰکِنْ عَمْرٌو لَمْ یَجِیء
 (زید آیا لیکن عمرو نہیں آیا)۔

(146)۔۔۔۔۔۔حروف عطف:

    وہ حروف جو ما بعد کو اعراب اور حکم وغیرہ میں ماقبل کی طرف مائل کردیتے ہیں۔ یہ دس ہیں جن کا ذکر اس سے پہلے گزرچکا ہے۔

(147)۔۔۔۔۔۔حروف تنبیہ:

    وہ حروف ہیں جن سے متکلم، مخاطب کی غفلت دورکرنا چاہتا ہے۔ جیسے:
 ( اَلَا بِذِکْرِ اللہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوۡبُ )
 (خبردار اللہ کے ذکر ہی سے دل مطمئن ہوتے ہیں)یہ تین حروف ہیں:
ألَاَ، أَمَا، ھَا۔
 (148)۔۔۔۔۔۔حروف ایجاب:

    وہ حروف جو کسی نہ کسی بات کا جواب واقع ہوتے ہیں ۔یہ چھ ہیں:
نَعَمْ، بَلٰی، أَجَلْ، إِیْ، جَیْرِ، اِنَّ۔
 (149)۔۔۔۔۔۔حروف تفسیر:

    وہ حروف جو وضاحت کے لیے آتے ہیں ۔ یہ دو ہیں:
أَیْ، أَنْ۔
 (150)۔۔۔۔۔۔حروف مصدریہ:

    وہ حروف جو اپنے ما بعد کے ساتھ مل کر مصدر کا معنی دیتے ہیں۔ یہ تین ہیں:
مَا، أنْ، أَنَّ ۔
Flag Counter