Brailvi Books

نحو مِير
156 - 202
أَحْمَرُ (سرخ مرد)۔

(137)۔۔۔۔۔۔تانیث:

    اس کی تعریف گزر چکی ہے۔

(138)۔۔۔۔۔۔معرفہ:

    اس کی تعریف گزر چکی ہے۔

(139)۔۔۔۔۔۔علم:

    وہ اسم جو معین شے کے لیے اس طرح موضوع ہو کہ اس وضع کے اعتبار سے دوسری شے کو شامل نہ ہو۔ جیسے:خَالِدٌ۔

(140)۔۔۔۔۔۔عجمہ:

    لفظ کا عربی کے علاوہ کسی زبان میں معنی کے لیے موضوع ہونا۔ جیسے:إِبْرَاھِیْمُ۔ اس کے منع صرف کا سبب بننے کے لیے شرط یہ ہے کہ عربی زبان میں بہ طور علم مستعمل ہو۔

(141)۔۔۔۔۔۔جمع:

    وہ اسم جو مفرد میں تبدیلی کے سبب دو سے زیادہ افراد پر دلالت کرے۔ اس کے منع صرف کا سبب ہونے کے لیے شرط یہ ہے کہ منتہی الجموع کا صیغہ ہو ، یعنی پہلے دونوں حرف مفتوح تیسری جگہ الف علامت جمع اور اس کے بعد ایک حرف مشدد ہو۔ جیسے: دَوَابُّ جمع دابّۃ یا دو حرف ہوں اورپہلا ان میں مکسور ہو ۔جیسے :
مَسَاجِدُ
جمع
مَسْجِدٌ۔
مَصَابِیْحُ
جمع
مِصْبَاحٌ۔
(142)۔۔۔۔۔۔ترکیب:

    دو یا دو سے زیادہ کلمات کا ایک ہو جانا بشرطیکہ کوئی جزء حرف کو متضمن نہ ہو۔ جیسے:
مَعْدِیْکَرِبُ۔
 (143)۔۔۔۔۔۔وزن فعل:

    اسم کا ایسے وزن پر ہونا جو فعل کے ساتھ مختص ہو۔ جیسے:شَمَّرَاور ضُرِبَ۔ یا
Flag Counter