Brailvi Books

نحو مِير
155 - 202
 (130)۔۔۔۔۔۔اسم فاعل:

    وہ اسم ہے جو مصدر سے مشتق ہو اور اس ذات پر دلالت کرے جس سے معنی مصدری کا صدور ہے۔ جیسے:ضَارِبٌ (مارنے والا)

(131)۔۔۔۔۔۔اسم مفعول:

    وہ اسم جو مصدر سے مشتق ہواور اس ذات پر دلالت کرے جس پر معنی مصدری واقع ہو۔ جیسے:مَضْرُوْبٌ۔

(132)۔۔۔۔۔۔صفت مشبہ:

    وہ اسم جو مصدر سے مشتق ہو اور اس ذات پر دلالت کرے جس کے ساتھ معنی مصدری بہ طور ثبوت قائم ہو (یعنی کسی زمانے کی تخصیص نہ ہو)۔جیسے: حَسَنٌ۔

(133)۔۔۔۔۔۔اسم تفضیل:

    وہ اسم جو مصدر سے مشتق ہو اور اس ذات پر دلالت کرے جس میں معنی مصدری کسی کی نسبت سے زیادہ پایاجائے۔ جیسے:أَکْبَرُ(زیادہ بڑا) جسے زیادتی حاصل ہو اُسے ''مفضل ''اور جس پر زیادتی ہو اسے'' مفضل علیہ'' کہتے ہیں۔

(134)۔۔۔۔۔۔مصدر:

    وہ اسم ہے جو فاعل سے صادر ہونے والے معنی پر دلالت کرے اور مفعول مطلق بنے۔ جیسے:ضَرْبٌ۔تمام مشتقات اسی سے نکلتے ہیں اسی لیے اسے''مصدر'' کہا جاتاہے۔

(135)۔۔۔۔۔۔عدل:

    اسم کے اصلی حروف کا کسی صرفی قاعدہ کے بغیر، اصلی صورت سے نکالا جانا۔ جیسے: عُمَرُ۔ کہ اصل میں عَامِرٌ تھا۔

(136)۔۔۔۔۔۔وصف:

    اسم کا کسی غیر معین ذات پردلالت کرنا جو کسی صفت کے ساتھ موصوف ہو۔ جیسے: