(130)۔۔۔۔۔۔اسم فاعل:
وہ اسم ہے جو مصدر سے مشتق ہو اور اس ذات پر دلالت کرے جس سے معنی مصدری کا صدور ہے۔ جیسے:ضَارِبٌ (مارنے والا)
(131)۔۔۔۔۔۔اسم مفعول:
وہ اسم جو مصدر سے مشتق ہواور اس ذات پر دلالت کرے جس پر معنی مصدری واقع ہو۔ جیسے:مَضْرُوْبٌ۔
(132)۔۔۔۔۔۔صفت مشبہ:
وہ اسم جو مصدر سے مشتق ہو اور اس ذات پر دلالت کرے جس کے ساتھ معنی مصدری بہ طور ثبوت قائم ہو (یعنی کسی زمانے کی تخصیص نہ ہو)۔جیسے: حَسَنٌ۔
(133)۔۔۔۔۔۔اسم تفضیل:
وہ اسم جو مصدر سے مشتق ہو اور اس ذات پر دلالت کرے جس میں معنی مصدری کسی کی نسبت سے زیادہ پایاجائے۔ جیسے:أَکْبَرُ(زیادہ بڑا) جسے زیادتی حاصل ہو اُسے ''مفضل ''اور جس پر زیادتی ہو اسے'' مفضل علیہ'' کہتے ہیں۔
(134)۔۔۔۔۔۔مصدر:
وہ اسم ہے جو فاعل سے صادر ہونے والے معنی پر دلالت کرے اور مفعول مطلق بنے۔ جیسے:ضَرْبٌ۔تمام مشتقات اسی سے نکلتے ہیں اسی لیے اسے''مصدر'' کہا جاتاہے۔
(135)۔۔۔۔۔۔عدل:
اسم کے اصلی حروف کا کسی صرفی قاعدہ کے بغیر، اصلی صورت سے نکالا جانا۔ جیسے: عُمَرُ۔ کہ اصل میں عَامِرٌ تھا۔
(136)۔۔۔۔۔۔وصف:
اسم کا کسی غیر معین ذات پردلالت کرنا جو کسی صفت کے ساتھ موصوف ہو۔ جیسے: