زیدپر مشتمل ہے (زید اس کا کپڑا چھینا گیا۔)
(127)۔۔۔۔۔۔بدل الغلط:
وہ بدل جس کا مبدل منہ کے ساتھ ان تین قسموں میں سے کوئی تعلق نہ ہو، دراصل مبدل منہ غلطی سے ذکر کردیا گیا۔ اس غلطی کو زائل کرنے کے لیے بدل کا ذکر کیا جاتاہے۔جیسے:
مَرَرْتُ بِزَیْدٍ حِمَارٍ
(میں زید بلکہ گدھے کے پاس سے گزرا۔)
(128)۔۔۔۔۔۔عطف بیان:
وہ تابع ہے جو صفت نہیں، لیکن اپنے متبوع کو واضح کرتاہے۔ جیسے:
أَقْسَمَ بِاﷲِ أَبُوْحَفْصٍ عُمَرُ
میں عُمَرُ۔ یہ متبوع میں پائے جانے والے معنی پر نہیں، بلکہ خود متبوع پر دلالت کرتاہے اور اسے واضح کرتاہے۔(ابوحفص عمرنے قسم کھائی)۔
(129)۔۔۔۔۔۔عطف بحرف:
وہ تابع ہے جو حرف عطف کے بعد واقع ہو اور متبوع کے ساتھ نسبت سے مقصود ہوتاہے ۔جیسے:جَاءَ زَیْدٌ وَعَمْرٌومیں عَمْرٌو۔ اسے ''عطف نسق ''بھی کہتے ہیں۔ حروف عطف دس ہیں :
دہ حروف عطف مشہور اندیعنی وَاؤْ فَاء
ثُمَّ حَتّٰی أَوْ و امّا أم وبل لٰکنْ ولَا