معنی ضرب پر دال ہے،جو زَیْدٌ میں نہیں ، بلکہ اس کے متعلق غُلاَم میں پایا گیا ہے۔ اسے ''صفت بحال متعلقہ ''کہتے ہیں۔ صفت کو''نعت''بھی کہتے ہیں۔
(122)۔۔۔۔۔۔تاکید:
وہ تابع ہے جو متبوع کی طرف کی گئی نسبت کو پختہ کرے یا متبوع کے اپنے افراد کے شامل ہونے کو پختہ کرے ۔جیسے:
میں دوسرا زَیْدٌ۔ اس میں لفظ متبوع کو دہرایا گیا ہے اسے ''تاکید لفظی''کہتے ہیں ۔
جَاءَ الْقَوْمُ کُلُّہُم ْ
میں کُلُّہُم نے بتایا کہ تمام افراد آئے ہیں ۔ اس میں لفظ متبوع کو نہیں لوٹایا گیا ۔ اسے ''تاکید معنوی''بھی کہتے ہیں۔تاکید معنوی کے لیے مخصوص آٹھ لفظ ہیں:
نَفْسٌ، عَیْنٌ، کِلَا، کِلْتَا، کُلٌّ، أَجْمَعُ، أَکْتَعُ، أَبْتَعُ، أَبْصَعُ۔
(123)۔۔۔۔۔۔بدل:
وہ تابع ہے جو نسبت میں مقصود ہو ، متبوع کو بطور تمہید ذکر کیا گیا ہو۔ جیسے:
(زید تیرا بھائی آیا)متبوع کو''مبدل منہ ''کہا جائے گا۔
(124)۔۔۔۔۔۔بدل الکل:
وہ بدل جس کا مدلول ، مبدل منہ کے مدلول کا عین ہو۔ جیسے مثال مذکور میں أَخُوْکَ اور زَیْدٌ کا مصداق ایک ہے۔
(125)۔۔۔۔۔۔بدل البعض:
وہ بدل جس کا مدلول مبدل منہ کے مدلول کا جزء ہو۔ جیسے:
میں رَأْسُہ، (زید اس کے سر کو مارا گیا)۔