Brailvi Books

نحو مِير
152 - 202
 (114)۔۔۔۔۔۔افعال تعجب:

    وہ افعال جو انشائے تعجب کے لیے وضع کیے گئے ہوں ۔ ان کے دو صیغے ہیں:
مَا أَحْسَنَہ، وَأَحْسِنْ بِہٖ
 (وہ کتنا حسین ہے)۔

(115)۔۔۔۔۔۔اسمائے شرطیہ:

    وہ اسماء جو ایک جملہ کے شرط اور دوسرے کے جزا ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔ جیسے:
مَنْ تَنْصُرْ أَنْصُرْ
 (جس کی تو امدادکریگا میں اس کی امداد کروں گا)یہ نو اسم ہیں :
		مَنْ وَمَا مَھْمَا وَأَیٌّ حَیْثُمَا إِذْ مَا مَتٰی

 		أَیْنَمَا  أَنّٰی  نُہ  اسم  جاز م  اند مر فعل را
 (116)۔۔۔۔۔۔اسم تام:

    وہ اسم جو اپنی موجودہ حالت میں مضاف نہ ہو سکے ۔ مثلاً وہ مضاف ہو یا تنوین، تثنیہ یا جمع کے نون کے ساتھ ہو۔، یہ تمییز کو نصب دیتاہے۔

(117)۔۔۔۔۔۔مبتدا قسم اول:

    وہ اسم جو لفظی عوامل سے خالی اور مسند الیہ ہو۔ جیسے:
زَیْدٌ قَائم
میں
زَیْدٌ۔
 (118)۔۔۔۔۔۔مبتدا قسم ثانی:

    وہ صیغہ صفت جو حرف استفہام کے بعد واقع ہو اور اسم ظاہر کو رفع دے۔ جیسے:
أَقَائمنِ الزَّیْدَانِ، قَائم
مبتدا قسم ثانی اور
فاعل قائم مقام خبر ہے۔

(119)۔۔۔۔۔۔خبر:

    وہ اسم جو عوامل لفظیہ سے خالی اور مسند ہو۔ جیسے :
زَیْدٌ قَائم
میں
قَائم ۔
 (120)۔۔۔۔۔۔تابع:

    وہ دوسرا لفظ ہے جس پر پہلے لفظ والا اعراب آئے اور جہت بھی ایک ہو ۔
جَاءَ زَیْدُنِ الْعاَلِمُ
میں
اَلْعَالِمُ
۔پہلے لفظ کو''متبوع ''کہا جائے گا۔
Flag Counter