خواری کرنا۔ ٭ان کے مسائل کے حل میں معاونت کرنا۔ ٭ علم کا شوق دلانا۔ ٭استقامت کی ترغیب دینا۔ ٭فکر آخرت پیدا کرنے کی کوشش کرنا۔ ٭مہذب اندازتخاطب رکھنا۔ ٭نام نہ بگاڑنا۔ ٭طلبہ کی حوصلہ افزائی کرنا۔ ٭ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے کی کوشش کرنا۔ ٭ان کے ذاتی معاملات میں دخل نہ دینا۔٭سب کے ساتھ یکساں تعلقات رکھنا۔
(۶)۔۔۔۔۔۔نحو میر کی تیاری ان کتابوں سے کی جا سکتی ہے:(۱)البشیرشرح نحومیر(۲)حاشیہ علامہ شرف قادری صاحب رحمہ اللہ(۳)تبصیر شرح نحومیروغیرہ۔
(۷)۔۔۔۔۔۔کسی بھی کتاب کو اول تاآخرپڑھادینے یا وقتی طور پر طلبہ کا اسے یادر کرکے سنا دینے سے مقصوداصلی حاصل نہیں ہوتا ،جب تک طلبہ اسے بعد میں یاد نہ رکھیں۔لہذا استاد کو چاہیے کہ پچھلے اسباق بھی طلبہ سے وقتاً فوقتاً سنتا رہے ۔
(۸)۔۔۔۔۔۔ طلبہ سے مختلف انداز میں سوال کرکے بھی ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کیا جاسکتا ہے مثلا:گردانیں سنتے وقت استاد اس طرح پوچھے : ''مارا ہم دو نے ''اس کا عربی صیغہ کیا ہے؟، اسی طرح ''مارتی ہے وہ ایک عورت''عربی صیغہ کیا ہے؟ علی ہذا القیاس۔
(۹)۔۔۔۔۔۔کسی بھی سبق کے آخر میں دیے گئے سوالات بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں لہذا طلبہ سے وہ سوالات ''ہوم ورک''کے طور پر حل کروائیں، اور بعد میں سننے کا سلسلہ بھی رکھیں۔
(۱۰)۔۔۔۔۔۔جوکتاب جس فن سے تعلق رکھتی ہے اس کی اہمیت، اسباق کی تیاری اور تدریس کا انداز بھی اسی کے مطابق ہوگاچونکہ''نحومیر''علم النحو کی ابتدائی اور نہایت ہی اہم کتاب ہے لہذا اس کے پڑھانے والے کو چاہیے کہ ''نحومیر''پڑھانے میں مندرجہ ذیل امور کو مد نظر رکھے:
(1)۔۔۔۔۔۔ طلباء کو''نحو میر''اچھی طرح زبانی یاد کرائیں اور بار بار سنیں۔
(2)۔۔۔۔۔۔ابتداء ًسہ اقسام ، اسم فعل اورحرف کی پہچان کرائیں اور جو مثال سامنے آئے اس کے ایک ایک لفظ کے بارے میں پوچھیں کہ یہ سہ اقسام سے کیا ہے؟
(3)۔۔۔۔۔۔شش اقسام:ثلاثی مجرد ، ثلاثی مزید،رباعی مجرد، رباعی مزید،خماسی مجرد اور خماسی مزید کی