Brailvi Books

نحو مِير
14 - 202
مدرسین کے لیے مَدَنی پھول
(۱)۔۔۔۔۔۔ مسند تدریس پرفائز ہونا بہت بڑی سعادت ہے ،باعمل مسلمانوں پر مشتمل مدنی معاشرے کی ترتیب،طلبہ کی مدنی تربیت اوران کے ظاہروباطن کو خصائل رذیلہ سے پاک کرکے اوصاف حمیدہ سے مزین کرنا اور انہیں معاشرے کا ایک باکردار مسلمان بنانے میں استادکا کردار بہت ہی اہمیت کا حامل ہے۔لہذااللہ عزوجل کی عطاکردہ اس عظیم نعمت تدریس کو اچھی اچھی نیتوں سے مزین کرکے اس کی رضاکو اپنے پیش نظر رکھے ۔

(۲)۔۔۔۔۔۔چونکہ طلبہ طویل عرصے تک روزانہ استاد کی صحبت میں بیٹھتے اور استاد کی ذات میں پائے جانے والے اوصاف کو اپنی ذات میں منتقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں لہذااگر استاذحسنِ اخلاق کاپیکر،مسلمانوں کی خیر خواہی کا جذبہ رکھنے والا،عفوودرگزرسے کام لینے والا،مدنی انعامات پر عمل کرنے والا،حقیقی عاجزی اختیار کرنے والا،قناعت پسند،خوش طبع ونفاست پسنداور خوف خدا عزوجل رکھنے والا ہوگا توان شاء اللہ عزوجل اس کے طلبہ بھی ان اوصاف کو اپنانے والے بنیں گے۔

(۳)۔۔۔۔۔۔اپنے طلبہ کو اشاعت علم دین کا ذہن دیتا رہے تاکہ قریہ قریہ نگر نگر علم کے کثیر چراغ روشن ہوں اور جہالت کے اندھیرے دور ہو جائیں،طلبہ کے عمل میں بہتری لانے اوران کے عملی جذبات کو تقویت دینے کے لیے خوداپنی ذات پر عمل کو نافذکرکے اور راہ خدا عزوجل میں سفر کرکے ترغیب دلائے تاکہ وہ معاشرے کے ابتر حالات اور پھیلی ہوئی جہالت کودیکھتے ہوئے اس مدنی مقصد کو اپنا لیں کہ ''مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے ان شاء اللہ عزوجل''۔

(۴)۔۔۔۔۔۔طلبہ کو اشاعت علم دین کا ذہن دینے کے لیے تدریس کے ساتھ ساتھ وقتاً فوقتاً بزرگان دین رحمہم اللہ المبین کے علم دین سیکھنے ،سکھانے کے واقعات بیان کرنا بھی نہایت مفید ہے۔

(۵)۔۔۔۔۔۔استاداور شاگرد کاتعلق انتہائی مقدس ہوتاہے لہذا استاذکو چاہیے کہ اپنے طلبہ کی بہتر تربیت کے لیے ان اوصاف کا حامل بننے کی کوشش کرے :٭طلبہ کو اپنی اولاد کی مثل جاننا۔ ٭ان کی ناکامی پر رنجیدہ اور کامیابی پراظہار مسرت کرنا۔ ٭بیمار ہونے پران کی عیادت کرنا۔ ٭طلبہ کی غم
Flag Counter