Brailvi Books

نحو مِير
149 - 202
 (97)۔۔۔۔۔۔حروف جارہ:

    وہ حروف جو فعل کے معنی کو اسم تک پہنچاتے ہیں اور اسم کوجر دیتے ہیں ۔ان کو ''خافض''بھی کہتے ہیں۔ یہ سترہ ہیں :
باء  و  تاء  و کاف  و لام  و   واؤ  منذ  مذ  خلا

                     رب، حاشا، من، عدا، فی، عن، علی، حتی، إلی
(98)۔۔۔۔۔۔فعل لازم:

    وہ فعل جس کا معنی صرف فاعل کے ساتھ مکمل ہوجائے اور مفعول بہ کو نہ چاہے۔ جیسے:
قَامَ زَیْدٌ
(زید کھڑا ہوا)۔

(99)۔۔۔۔۔۔فعل متعدی:

    وہ فعل جس کا معنی فاعل کے علاوہ مفعول بہ کو بھی چاہے۔ جیسے:
جَاءَ نِیْ خَالِدٌ۔
(100)۔۔۔۔۔۔فاعل:

    وہ اسم جس کے معنی کی طرف فعل کے صادر ہونے کی نسبت ہو اور فعل کا اس سے مقدم ہونا واجب ہو۔ جیسے: مثال مذکور میں خَالِدٌ۔

(101)۔۔۔۔۔۔مفعول بہ:اس شے کا اسم ہے جس پر فاعل کا فعل واقع ہوا ہو اور فعل اس سے متعلق ہو۔ جیسے: مثال مذکور میں یاء متکلم۔

(102)۔۔۔۔۔۔مفعول مطلق:

    وہ مصدرہے جو فعل مذکور کا ہم معنی ہو (یعنی فعل کا معنی تضمنی ہو)۔ جیسے:
ضَرَبْتُ ضَرْباً۔
 (103)۔۔۔۔۔۔مفعول فیہ:

    مفعول فیہ اس زمان یا مکان کا اسم ہے جس میں فعل مذکور واقع ہو۔ جیسے:
	   صُمْتُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ میں یَوْمَ الْجُمُعَۃِ،
اور
جَلَسْتُ عِنْدَکَ میں عِنْدَ۔
یا تین حرف ہوں ان میں پہلا مکسور اور دوسرا حرف یاء ہو۔ جیسے:
Flag Counter