(84)۔۔۔۔۔۔جر:
مضاف الیہ ہونے کی علامت : کسرہ ، فتحہ ،یاء۔
مَرَرْتُ بِزَیْدٍ وَعُمَرَ وَمُسْلِمِیْنَ۔
(85)۔۔۔۔۔۔معنیء مقتضی:
وہ معنی جو اعراب کو چاہے۔ جیسے فاعلیت رفع کو، مفعولیت نصب کو، اضافت جر کو چاہتی ہے۔ مثلاً:
جَاءَ نِی زَیْدٌ وَرَأَیْتُ زَیْداً وَغُلاَمَ زَیْدٍ۔
(86)۔۔۔۔۔۔عامل:
وہ چیز جس کے سبب اعراب کو چاہنے والا معنی پیدا ہو۔ جیسے مذکورہ بالا مثالوں میں جَاءَ کے سبب معنی فاعلیت اور رَأَیْتُ کے سبب معنی مفعولیت اور مضاف کے سبب معنی اضافت پیدا ہوا۔
(87)۔۔۔۔۔۔عامل لفظی:
وہ عامل جو پڑھنے میں آسکے۔ جیسے: مذکورہ بالا مثالیں۔
(88)۔۔۔۔۔۔عامل معنوی:
وہ پڑھنے میں نہ آسکے، عقل سے معلوم ہو۔ جیسے:
میں ابتدا ء عامل ہے یعنی اسم کا لفظی عوامل سے خالی ہونا تاکہ مسند الیہ یا مسند ہو۔
(89)۔۔۔۔۔۔مفرد:
(۱)جو مرکب نہ ہو۔(۲)جو تثنیہ اور جمع نہ ہو۔(۳)جوجملہ نہ ہو۔(۴)جو