Brailvi Books

نحو مِير
145 - 202
 (67)۔۔۔۔۔۔نکرہ:

    وہ اسم جو غیر معین شے کے لیے وضع کیا گیا ہو جیسے:
رَجُلٌ، بَیَاضٌ۔
 (68)۔۔۔۔۔۔مذکر:

    وہ اسم جس میں لفظاً یا تقدیراً تانیث کی علامت نہ پائی جائے ۔جیسے:رَجُلٌ۔

(69)۔۔۔۔۔۔مؤنث:

    وہ اسم ہے جس میں تانیث کی کوئی علامت پائی جائے۔ علامتیں چار ہیں:(۱)تاء ملفوظہ۔ جیسے:طَلْحَۃُ۔ (۲)تاء مقدرہ۔ جیسے:أرْضٌ،اصل میں أرْضَۃٌ ہے۔ (۳)الف مقصورہ۔ جیسے:حُبْلٰی حاملہ عورت ۔(۴)الف ممدودہ۔ جیسے :حَمْرَاءُ سرخ عورت۔

(70)۔۔۔۔۔۔مؤنث حقیقی:

    وہ مؤنث جس کے مقابل جاندا رنر ہو ۔جیسے:اِمْرَأَۃٌ کہ اس کے مقابل رجل ہے۔

(71)۔۔۔۔۔۔مؤنث لفظی:

    وہ مؤنث جس کے مقابل جاندا رنر نہ ہو۔ جیسے :ظُلْمَۃٌ (تاریکی)۔

(72)۔۔۔۔۔۔واحد:

    وہ اسم جو ایک فرد پر دلالت کرے ۔جیسے:مُؤْمِنٌ (ایک ایمان والا)۔

(73)۔۔۔۔۔۔مثنی:

    وہ اسم جو دو فردوں پر اس لیے دلالت کرے کہ مفرد کے آخر میں الف یا یاء ما قبل مفتوح اور نون مکسورہ لگایا گیا ہو۔ جیسے:مُؤْمِنَانِ (دو ایمان والے)۔

(74)۔۔۔۔۔۔مجموع:

    وہ اسم جو دو سے زیادہ افراد پر اس لیے دلالت کرے کہ مفرد میں لفظی یا تقدیری تبدیلی کی گئی ہے۔ جیسے:رِجَالٌ اس کا مفرد رَجُلٌ ہے او ر فُلْکٌ (کشتیاں)بروزن أُسْدٌ (أَسَدٌکی جمع شیر)اس کا مفرد فُلْکٌ بروزن قُفْلٌ ہے۔
اَلزَّیْدَانِ
Flag Counter