(68)۔۔۔۔۔۔مذکر:
وہ اسم جس میں لفظاً یا تقدیراً تانیث کی علامت نہ پائی جائے ۔جیسے:رَجُلٌ۔
(69)۔۔۔۔۔۔مؤنث:
وہ اسم ہے جس میں تانیث کی کوئی علامت پائی جائے۔ علامتیں چار ہیں:(۱)تاء ملفوظہ۔ جیسے:طَلْحَۃُ۔ (۲)تاء مقدرہ۔ جیسے:أرْضٌ،اصل میں أرْضَۃٌ ہے۔ (۳)الف مقصورہ۔ جیسے:حُبْلٰی حاملہ عورت ۔(۴)الف ممدودہ۔ جیسے :حَمْرَاءُ سرخ عورت۔
(70)۔۔۔۔۔۔مؤنث حقیقی:
وہ مؤنث جس کے مقابل جاندا رنر ہو ۔جیسے:اِمْرَأَۃٌ کہ اس کے مقابل رجل ہے۔
(71)۔۔۔۔۔۔مؤنث لفظی:
وہ مؤنث جس کے مقابل جاندا رنر نہ ہو۔ جیسے :ظُلْمَۃٌ (تاریکی)۔
(72)۔۔۔۔۔۔واحد:
وہ اسم جو ایک فرد پر دلالت کرے ۔جیسے:مُؤْمِنٌ (ایک ایمان والا)۔
(73)۔۔۔۔۔۔مثنی:
وہ اسم جو دو فردوں پر اس لیے دلالت کرے کہ مفرد کے آخر میں الف یا یاء ما قبل مفتوح اور نون مکسورہ لگایا گیا ہو۔ جیسے:مُؤْمِنَانِ (دو ایمان والے)۔
(74)۔۔۔۔۔۔مجموع:
وہ اسم جو دو سے زیادہ افراد پر اس لیے دلالت کرے کہ مفرد میں لفظی یا تقدیری تبدیلی کی گئی ہے۔ جیسے:رِجَالٌ اس کا مفرد رَجُلٌ ہے او ر فُلْکٌ (کشتیاں)بروزن أُسْدٌ (أَسَدٌکی جمع شیر)اس کا مفرد فُلْکٌ بروزن قُفْلٌ ہے۔