Brailvi Books

نحو مِير
144 - 202
استعمال ہوتاہے۔ جیسے:
ھَذَا، ھَذِہٖ
وغیرہ۔

(61)۔۔۔۔۔۔اسم موصول:

    وہ اسم ہے جو اس وقت تک جملے کا جز ء تام نہیں بنتا جب تک اس کے ساتھ ایک جملہ نہ ملایا جائے، وہ جملہ اُس اسم کی ضمیرپر مشتمل ہوتاہے اور''صلہ ''کہلاتاہے۔ جیسے:
اَلَّذِیْ، اَلَّتِیْ
وغیرہ۔

(62)۔۔۔۔۔۔اسم فعل:

    وہ اسم ہے جو فعل کے معنی میں استعمال ہوتاہو۔

(63)۔۔۔۔۔۔اسم صوت:

    وہ لفظ جو کسی عارضے کے وقت انسان سے طبعی طور پر صادر ہو۔ جیسے: شدید کھانسی کے وقت
أُحْ أُحْ۔
یا اس لفظ سے کسی حیوان کو آواز دی جائے۔ جیسے:اونٹ کو بٹھانے کے لیے
نِخْ  نِخْ
یا
نَخّ
کہا جاتاہے ۔یا اس لفظ سے کسی آواز کی نقل مقصود ہو۔ جیسے:کوے کی آواز کی نقل کے لیے کہاجاتاہے:غَاقِ۔

(64)۔۔۔۔۔۔اسم ظرف:

    وہ اسم ہے جو کسی زمانے یا مکان پر دلالت کرے۔ اس کی دو قسمیں ہیں:(۱)جو کسی خاص فعل کے زمانے یا مکان پر دلالت کرے۔ جیسے:مَضْرِبٌ  مارنے کی جگہ یا وقت۔ (۲) جو مطلق زمان یا مکان پر دلالت کرے کسی فعل کی خصوصیت کا اعتبار نہ ہو۔ جیسے: اِذْ زمان ماضی پر اوراِذَا زمان مستقبل پر دلالت کرتاہے ۔ اسم غیر متمکن صرف دوسری قسم ہے۔

(65)۔۔۔۔۔۔اسم کنایہ:

    وہ اسم جو کسی معین شے پر صراحت کے بغیر دلالت کرے۔ جیسے:کَمْکتنے اور کَذَا اتنے۔

(66)۔۔۔۔۔۔معرفہ:

    وہ اسم جوشے معین کے لیے وضع کیا گیا ہو۔ جیسے:
ھُوَ، ھَذَا، زَیْدٌ
وغیرہ۔
Flag Counter