Brailvi Books

نحو مِير
141 - 202
مضاف ،اسم جلالت مضاف الیہ، عبد کی اسم جلالت کی طرف نسبت کرنا اضافت ہے۔ (نوٹ)مضاف الیہ ہمیشہ مجرور ہوتاہے، مضاف پر مضاف ہونے کے سبب کوئی اعراب نہیں آتا، جیساعامل ویسا اعراب۔

(40)۔۔۔۔۔۔مرکب اضافی:

    وہ مرکب جو مضاف اور مضاف الیہ پر مشتمل ہو۔

(41)۔۔۔۔۔۔مرکب بنائی:

    وہ مرکب ہے کہ دو اسموں کو ایک بنایا گیا ہواور دوسرا جزء حرف کو متضمن ہو۔ جیسے:
اَحَدَ عَشَرَ
کہ اصل میں
اَحَدٌ وَعَشَرٌ
تھا دوسرا اسم واؤ پر مشتمل ہے ۔اسی طرح
تِسْعَ عَشَرَ
تک۔

(42)۔۔۔۔۔۔مرکب منع صرف:

    وہ مرکب کہ دو اسموں کو ایک بنایاگیاہو اور دوسرا اسم حرف کو متضمن نہ ہو۔جیسے:
بَعْلَبَکُّ، بَعْلٌ
ایک بت تھا حضرت یونس علیہ السلام کی قوم اس کی عبادت کرتی تھی، بَکُّ اس بت کے پجاری بادشاہ کا نام تھا، دونوں کو ملا کر ایک شہر کا نام رکھ دیا گیا ۔

(43)۔۔۔۔۔۔معرب:

    وہ اسم جو ترکیب میں واقع ہو، یعنی اپنے عامل کے ساتھ پایا جائے اور مبنی الاصل کے مشابہ نہ ہو۔جیسے:جَاءَ نِیْ زَیْدٌ میں زید۔معرب کا حکم یہ ہے کہ اس پر مختلف عمل والے عاملوں کے آنے سے اس کا آخر بدل جائے گا۔

(44)۔۔۔۔۔۔مبنی:

    وہ اسم جو مبنی الاصل کے ساتھ مناسبت رکھے،یا عامل کے بغیر پایاجائے۔ جیسے:
جَاءَ نِیْ ھَوُلَاءِ
میں
ھَوُلَاءِ
۔ اسی طرح زَیْد، عَمْرو، بَکْر و غیرہ جو عامل کے ساتھ نہیں۔اس کا حکم یہ ہے کہ عوامل کے بدلنے سے اس کا آخر نہیں
Flag Counter