Brailvi Books

نحو مِير
140 - 202
ایک شخص کہے:
اَنْکَحْتُکَ اِبْنَتِیْ
میں نے اپنی لڑکی تیرے نکاح میں دی (ایجاب)دوسرا شخص کہے:قَبِلْتُ میں نے قبول کی (قبول)۔

(33)۔۔۔۔۔۔نداء:

    پکارنا، اس جگہ وہ جملہ انشائیہ مرا د ہے جس سے کسی کی توجہ اپنی طرف مبذول کرانا مقصود ہو۔ جیسے :
یَا اَللَّہُ، یَارَسُوْلَ اللَّہِ۔
 (34)۔۔۔۔۔۔عرض:

    نرمی کے ساتھ کوئی چیز طلب کرنا، مراد وہ جملہ ہے جس سے کوئی چیز نرمی کے ساتھ طلب کی جائے۔ جیسے:
أَلَا تُحِبُّونَ أَن یَغْفِرَ اللَّہُ لَکُمْ۔
 (کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ اللہ تعالی تمہیں بخش دے)۔

(35)۔۔۔۔۔۔قسم:

    کسی عظمت والی چیز کا ذکر کرکے بات پختہ کرنا۔جیسے ارشاد ربانی ہے:
 (لَعَمْرُکَ إِنَّہُمْ لَفِی سَکْرَتِہِمْ یَعْمَہُونَ)
 (اے حبیب !تمہاری زندگی کی قسم بے شک کافر اپنے نشے میں بھٹک رہے ہیں)۔ قسم کے بعد واقع ہونے والا جملہ ''جو اب قسم'' کہلائے گا۔

(36)۔۔۔۔۔۔تعجب:

    وہ کیفیت جو کسی مخفی سبب والی چیز کے جاننے سے نفس میں پیدا ہوتی ہے، مراد وہ جملہ ہے جو اس معنی کے انشاء پر دلالت کرے۔ جیسے :مَاأَحْسَنَہ، (وہ کتنا حسین ہے)

(37)۔۔۔۔۔۔اضافت:

    حرف جر مقدر کے واسطے سے ایک اسم کی دوسرے اسم کی طرف نسبت کرنا۔

(38)۔۔۔۔۔۔مضاف:

    وہ اسم جس کی مذکورہ بالا نسبت دوسرے اسم کی طرف کی جائے۔

(39)۔۔۔۔۔۔مضاف الیہ:

    جس کی طرف مذکورہ بالا نسبت کی گئی ہو۔ جیسے:عَبْدُ اللَّہِ(اللہ تعالی کا بندہ)عبد
Flag Counter