میں اسم جلالت مسند الیہ اور محکوم علیہ ہے، قَدِیْرٌ مسند اور محکوم بہ ہے اور اسم جلالت کی طرف قَدِیْرٌ کی نسبت کرنا اسناد ہے۔
(27)۔۔۔۔۔۔امر:
وہ فعل ہے جس کے ذریعے فاعلِ مخاطب سے فعل طلب کیا جائے۔ جیسے:اُخْرُجْ (تو نکل)۔
(28)۔۔۔۔۔۔نہی:
وہ فعل ہے جس کے ذریعے ترک فعل کا مطالبہ کیا جائے۔ جیسے:لَا تَخَف(تو نہ ڈر)۔
(29)۔۔۔۔۔۔استفہام:
لغت میں طلب افہام کو کہتے ہیں۔ اس جگہ وہ جملہ انشائیہ مراد ہے جو طلب خبر پر دلالت کرے ۔جیسے:مَنْ نَبِیُّکَ
(تیرا نبی کون ہے؟)۔
(30)۔۔۔۔۔۔تمنی:
لغت میں آرزو کرنے کو کہتے ہیں ۔ اس جگہ وہ جملہ انشائیہ مراد ہے جو کسی شیء کی آرزو پر دلالت کرے۔ جیسے:یَالَیْتَنِیْ کُنْتُ تُرَاباً
(کافر کہے گا )اے کاش ! میں مٹی ہوجاتا۔
(31)۔۔۔۔۔۔ترجی:
کسی ایسی چیز کے حصول کی توقع کرنا جس کے حصول کا وثوق نہ ہو۔ اس جگہ وہ جملہ انشائیہ مراد ہے جو کسی شے کی توقع پر دلالت کرے۔ جیسے: فرعون نے کہا :لَعَلِّیْ أَبْلُغُ الْأَسْبَابَ
(شاید کہ میں اسباب تک پہنچ جاؤں)۔
(32)۔۔۔۔۔۔عقود:
عقد کی جمع، وہ جملہ انشائیہ جو کسی معاملہ کے طے کرتے وقت بولا جائے۔ جیسے