سید سند علیہ رحمۃ اللہ الاحدنے پچاس۵۰ سے زیادہ تصانیف یادگار چھوڑیں، جو ان کے علم وفضل کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ چند تصانیف کے نام درج ذیل ہیں:
(۱)شیریفیہ شرح سراجی(۲)شرح وقایہ(۳)شرح مفتاح(۴)شرح تذکرہ طوسی (۵)شرح تلخیص چغمینی (علم ہیئت میں) (۶)شرح کافیہ (فارسی)علامہ عبدالحق خیر آبادی نے''تسہیل الکافیہ''کے نام سے اسی کا عربی میں ترجمہ کیا ہے۔ (۷)حاشیہ تفسیر بیضاوی(۸)حاشیہ مشکوۃ (۹)حاشیہ ہدایہ (۱۰)حاشیہ شرح شمسیہ(میر قطبی) (۱۱)حاشیہ مطول (۱۲)حاشیہ رضی (۱۳)حاشیہ تلویح (۱۴)صرف میر (۱۵)نحومیر(فارسی ) (۱۶) صغرٰی کبرٰی (۱۷)تعریفات (۱۸)مناقب خواجہ تقشبند وغیرہا ۔ان میں سے متعدد کتابیں درس نظامی کے نصاب میں داخل ہیں۔
نو عمری کے زمانہ میں لکھی ہوئی وہ مختصر اور بابرکت کتاب ہے جو پاک وہند کے تمام مدارس میں داخل نصاب ہے اور بلا شبہ لاکھوں علماء اسے پڑھ چکے ہیں، اِس میں نحو کے مسائل انتہائی آسان زبان میں بیان کیے گئے ہیں ۔جس طالب علم کو یہ کتاب اچھی طرح یاد ہو، اِنْ شَاءَ اﷲُ عَزَّوَجَلَّ اسے عبارت پڑھنے میں دشواری نہیں ہوگی''نحومیر''سے پہلے ضروری ہے کہ طالب علم ''میزان الصرف''یا صرف کی کوئی ابتدائی کتاب پڑھ چکا ہو اور اسے عربی مفردات کا کچھ ذخیرہ یاد ہو۔
چہار شنبہ (بدھ)۶ربیع الاول ۸۱۶ھ میں سید سند کا وصال ہوا''مشہور دارین'' تاریخ وفات ہے۔
(ماخوذ ازتحریرشرف ملت حضرت علامہ مولانا محمد عبد الحکیم شرف القادری علیہ رحمۃ اللہ القوی )