Brailvi Books

نحو مِير
13 - 202
ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس کا علم ناقص ہے'' ۔

    مولانا عبد الحی لکھنوی فرماتے ہیں:''تذکرہ نگار متفق ہیں کہ سید حنفی تھے،میرے دیکھنے میں نہیں آیا کہ کسی نے انہیں شافعیہ میں شمار کیا ہو، البتہ علامہ تفتازانی کے بارے میں اختلاف ہے کہ وہ حنفی تھے یا شافعی تھے''۔

    علامہ زرکلی فرماتے ہیں
''عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ اَلْمَعْرُوْفْ بِـ"الشَّرِیْفِ الْجُرْجَانِیْ" فَیْلَسُوْفٌ مِنْ کِبَارِ الْعُلَمَاءِ بِالْعَرَبِیَّۃِ وُلِدَ فِیْ ''تَاکُوْ'' قُرْبِ اِسْتَرْآبَادَ وَدَرَّسَ فِیْ
''شِیْرَازَ'' یعنی علی ابن محمد علی المعروف شریف جرجانی، عظیم فلسفی اور عربی کے اکابر علماء میں سے تھے، استرآباد کے قریب ''تاکو ''میں پیدا ہوئے اور''شیراز ''میں درس دیا''۔
تصانیف:
    سید سند علیہ رحمۃ اللہ الاحدنے پچاس۵۰ سے زیادہ تصانیف یادگار چھوڑیں، جو ان کے علم وفضل کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ چند تصانیف کے نام درج ذیل ہیں:

    (۱)شیریفیہ شرح سراجی(۲)شرح وقایہ(۳)شرح مفتاح(۴)شرح تذکرہ طوسی (۵)شرح تلخیص چغمینی (علم ہیئت میں) (۶)شرح کافیہ (فارسی)علامہ عبدالحق خیر آبادی نے''تسہیل الکافیہ''کے نام سے اسی کا عربی میں ترجمہ کیا ہے۔ (۷)حاشیہ تفسیر بیضاوی(۸)حاشیہ مشکوۃ (۹)حاشیہ ہدایہ (۱۰)حاشیہ شرح شمسیہ(میر قطبی) (۱۱)حاشیہ مطول (۱۲)حاشیہ رضی (۱۳)حاشیہ تلویح (۱۴)صرف میر (۱۵)نحومیر(فارسی ) (۱۶) صغرٰی کبرٰی (۱۷)تعریفات (۱۸)مناقب خواجہ تقشبند وغیرہا ۔ان میں سے متعدد کتابیں درس نظامی کے نصاب میں داخل ہیں۔
نحومیر:
    نو عمری کے زمانہ میں لکھی ہوئی وہ مختصر اور بابرکت کتاب ہے جو پاک وہند کے تمام مدارس میں داخل نصاب ہے اور بلا شبہ لاکھوں علماء اسے پڑھ چکے ہیں، اِس میں نحو کے مسائل انتہائی آسان زبان میں بیان کیے گئے ہیں ۔جس طالب علم کو یہ کتاب اچھی طرح یاد ہو، اِنْ شَاءَ اﷲُ عَزَّوَجَلَّ اسے عبارت پڑھنے میں دشواری نہیں ہوگی''نحومیر''سے پہلے ضروری ہے کہ طالب علم ''میزان الصرف''یا صرف کی کوئی ابتدائی کتاب پڑھ چکا ہو اور اسے عربی مفردات کا کچھ ذخیرہ یاد ہو۔
انتقال پرملال:
    چہار شنبہ (بدھ)۶ربیع الاول  ۸۱۶؁ھ میں سید سند کا وصال ہوا''مشہور دارین'' تاریخ وفات ہے۔

(ماخوذ ازتحریرشرف ملت حضرت علامہ مولانا محمد عبد الحکیم شرف القادری علیہ رحمۃ اللہ القوی )
Flag Counter