Brailvi Books

نحو مِير
133 - 202
مَا جَاءَ نِیْ غَیْرَ زَیْدٍ الْقَوْمُ(۱)، مَا جَاءَ نِیْ أَحَدٌ غَیْرُ زَیْدٍ(۲)، مَا جَاءَ نِیْ غَیْرُ زَیْدٍ(۳)، مَا رَأَیْتُ غَیْرَ زَیْدٍ، مَا مَرَرْتُ بِغَیْرِ زَیْدٍ۔
    نیز معلوم ہوناچاہیے کہ لفظ غَیْر صفت کے لیے وضع کیا گیا ہے لیکن بعض اوقات استثناء کے لیے بھی آتاہے(۴)جیسا کہ لفظ اِلَّا استثناء کے لیے وضع کیا گیا ہے لیکن بعض اوقات صفت میں استعمال ہوتاہے۔ جیسا کہ رب العزت جل مجدہ کا ارشاد ہے:
 ( لَوْکَانَ فِیۡہِمَاۤ اٰلِہَۃٌ اِلَّا اللہُ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ مَا جَاءَ نِی غَیْرَ زَیْدِنِ الْقَوْمُ۔ یہ مستثنیٰ کلام غیر موجب میں واقع ہے اور مستثنیٰ منہ پر مقدم ہے لہٰذا اس میں بھی میں لفظ غَیْرَ منصوب ہوگا ۔

2۔۔۔۔۔۔ مَاجَاءَ نِی اَحَدٌ غَیْرَ زَیْدٍ۔ یہ مستثنیٰ کلام غیر موجب میں واقع ہے، مستثنیٰ منہ بھی مذکور ہے۔ ایسی صورت میں چونکہ مستثنیٰ بالا کو بوجہ استثناء منصوب اور بوجہ بدل مرفوع بھی پڑھ سکتے ہیں لہٰذا اس میں لفظغَیْرَ کوبھی منصوب یا مرفوع دونوں طرح پڑھ سکتے ہیں ۔

3۔۔۔۔۔۔ مَا جَاءَ نِی غَیْرُ زَیْدٍ یہ مستثنیٰ مفرغ ہے اورایسی صورت میں چونکہ مستثنی بِإِلاَّ کااعراب عامل کے مطابق ہوتاہے لہٰذالفظ غَیْرْکا اعراب بھی عامل کے مطابق ہوگا،اس مثال میں چونکہ عامل رافع ہے اس لیے لفظ غَیْرُ مرفوع ہے۔ مَارَأَیْتُ غَیْرَ زَیْدٍ اس میں لفظ غَیْرَ منصوب ہے۔مَا مَرَرْتُ بِغَیْرِ زَیْدٍ۔ اس میں لفظ غَیْرمجرورہے۔ (ف)غَیْر جب صفت ہوتو یہ واحد جمع ، مذکر اور مؤنث سب کے لیے استعمال ہوتاہے۔ ارشاد باری تعالی ہے:(اَمْوَاتٌ غَیْرُ اَحْیَاء)یہ غیر جمع اور مؤنث کی صفت ہے۔ البشیر ملخصاً۔

4۔۔۔۔۔۔بعض اوقات اِلَّا بمعنی غَیْر استعمال ہوتاہے۔ جیسے :(لَوْکَانَ فِیْھِمَا اٰلِھَۃٌ اِلَّا اللہُ لَفَسَدَتَا) (اگر زمین وآسمان میں اللہ تعالی کے مغایر آلِھَۃٌ ہوتے تو وہ دونوں تباہ ہوجاتے ۔)اس جگہاِلَّا صفتی ہے بمعنی غَیْر، استثناء کے لیے نہیں ہے ؛ کیونکہ آلِھَۃٌ جمع نکرہ ہے جس کی دلالت کسی معین تعداد پر نہیں لہٰذا یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ اللہ تعالی ان آلِھَۃٌ میں داخل ہے جس کی بناء پر اسے استثناء متصل قرار دیاجاسکے اور یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ خارج ہے جس کی بناء پر اسے استثناء منقطع قراردیاجاسکے لہٰذا لازماً یہاں اِلاَّ کو صفتی قرار دیناپڑے گا۔

1
Flag Counter