جَاءَ نِی الْقَوْمُ غَیْرَ زَیْدٍ(۲) وسِوَی زَیْدٍ وسِوَاءَ زَیْدٍ۔
(ب)اکثر نحات کے نزدیک جب مستثنیٰ لفظحَاشَاکے بعدواقع ہو(۳)۔
خیال رہے کہ لفظ غَیْر کا اعراب اُس مستثنیٰ کے اعراب کی طرح ہوتاہے جواِلَّا کے بعد واقع ہوتاہے۔جیسے:
جَاءَ نِی الْقَوْمُ غَیْرَ زَیْدٍ وغَیْرَ حِمَارٍ(۴)، .............................................
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* دینے والا ہوتو مجرور ہوگا ۔جیسے:مَامَرَرْتُ اِلَّا بِزَیْدٍ ۔(ف)جب مستثنیٰ منہ کو حذف کیا گیا تو گویاعامل کومستثنیٰ میں عمل کرنے کے لیے فارغ کردیا گیا اس لحاظ سے اسے''مستثنیٰ مفر ّغ لہ '' کہناچاہیے یعنی وہ مستثنیٰ جس کے لیے عامل کو مستثنیٰ منہ میں عمل کرنے سے فارغ کردیا گیا، لیکن اختصار کے لیے اسے صرف ''مستثنیٰ مفرَّغ ''کہہ دیتے ہیں۔
1۔۔۔۔۔۔ مستثنیٰ کی چوتھی قسم جسے صرف جردیاجاتاہے ۔وہ یہ ہے کہ مستثنیٰ لفظغَیْرَ، سِوٰی اور کے بعد واقع ہو۔اس صورت میں مستثنیٰ مضاف الیہ ہونے کے سبب مجرور ہوتاہے۔جیسے:جَاءَ نِی الْقَوْمُ غَیْرَ زَیْدٍ۔(ف)حَاشَا کے بعد بھی اکثر نحویوں کے نزدیک مستثنیٰ مجرور ہوگا ؛ کیونکہ ان کے نزدیک یہ حرف جار ہے ۔اور بعض نحاۃاسے استثناء کے وقت فعل قرار دیتے ہیں لہٰذا اس کے بعد مستثنیٰ کو مفعولیت کی بناء پر منصوب پڑھتے ہیں۔(ف)بعض اوقات حَاشَابہ طور اسم استعمال ہوتاہے ۔ جیسے:حَاشَا لِلّٰہِ۔ اس وقت تنزیہ کے معنی میں ہوگا ۔
2۔۔۔۔۔۔ جَاءَ نِی الْقَوْمُ غَیْرَ زَیْدٍ اس میں لفظ غَیْرَ منصوب ہوگا کیونکہ اس میں مستثنیٰ متصل ہے اور کلام موجب ہے اور ایسی صورت میں مستثنیٰ بِاِلَّا ہمیشہ منصوب ہوتاہے لہٰذا لفظغَیْرَ منصوب ہوگا۔
3۔۔۔۔۔۔جیسے:ضَرَبَنِی الْقَوْمُ حَاشَا زَیْدٍ۔
4۔۔۔۔۔۔ غَیْرَحِمَارٍیعنی جَاءَ نِی الْقَوْمُ غَیْرَحِمَارٍ۔اس میں بھی لفظ غَیْرَ منصوب ہے ؛ کیونکہ مستثنیٰ منقطع ہے جو ہمیشہ منصوب ہوتاہے ۔