Brailvi Books

نحو مِير
131 - 202
جیسے:
جَاءَ نِی الْقَوْمُ خَلَا زَیْداً وعَدَا زَیْداً۔
    (و)بعض نحات کے نزدیک جب مستثنیٰحَاشَا کے بعدواقع ہو ۔جیسے:
شَتَمَنِی الْقَوْمُ حَاشَا زَیْداً(۱) ۔
 (۲)۔۔۔۔۔۔درج ذیل صورت میں مستثنیٰ کو منصوب پڑھنا اور ماقبل سے بدل بنانا دونوں جائز ہیں(۲):

     جب مستثنیٰ کلام غیر موجب میں اِلَّا کے بعد آئے اور مستثنیٰ منہ بھی مذکور ہو۔جیسے:
مَا جَاءَ نِیْ أَحَدٌ اِلَّا زَیْداًیا اِلَّا زَیْدٌ (۳)۔
 (۳)۔۔۔۔۔۔درج ذیل صورت میں مستثنیٰ کااعراب عامل کے مطابق ہوگا(۴):

    جب مستثنیٰ مفر ّغ ہو۔ یعنی مستثنیٰ اِلَّاکے بعدکلام غیر موجب میں واقع ہواور مستثنیٰ منہ مذکور نہ ہو۔جیسے :
مَا جَاءَ نِیْ اِلَّا زَیْدٌ، مَا رَأَیْتُ اِلَّا زَیْداً،
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔(ترجمہ:قوم نے مجھے گالیاں دیں سوائے زید کے)اس صورت میں مستثنیٰ کو منصوب پڑھنا صرف جائزہے۔ 

2۔۔۔۔۔۔ مستثنیٰ کی دوسری قسم جسے دو طرح پڑھ سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ مستثنیٰ کلام غیرموجب میں الا کے بعد واقع ہواور مستثنیٰ منہ بھی مذکورہو۔جیسے :مَا جَاءَ نِی اَحَدٌ اِلَّا زَیْداً۔ اس میں مستثنیٰ کو استثناء کی بنا پر منصوب بھی پڑھ سکتے ہیں اور بدل ہونے کے سبب ما قبل کے مطابق مرفوع بھی پڑھ سکتے ہیں ۔ارشاد ربانی ہے :(مَا فَعَلُوْہُ اِلَّا قَلِیْلٌ)اس میں فَعَلُوْا کی واؤ ضمیر مرفوع متصل ہے ، قَلِیْلٌ اس سے بدل ہونے کے سبب مرفوع ہے استثناء کی بنا پر قَلِیْلاً بھی پڑھ سکتے ہیں ۔ 

3۔۔۔۔۔۔اس میں نصب تو استثناء کی بناء پر ہوگا اور رفع ماقبل سے بدل ہونے کی وجہ سے ۔

4۔۔۔۔۔۔مستثنیٰ کی تیسری قسم جسے عامل کے مطابق اعراب دیاجاتاہے وہ یہ ہے کہ مستثنیٰ کلام غیرموجب میں اِلَّاکے بعد واقع ہو اورمستثنیٰ منہ کلام میں مذکورنہ ہو۔ایسے مستثنیٰ کو ''مستثنیٰ مفر ّغ ''کہتے ہیں۔جیسے :مَا جَاءَ نِی اِلَّا زَیْدٌ۔ یہ یوں ہے:مَا جَاءَ نِی اَحَدٌ اِلَّا زَیْدٌ۔ اَحَدٌ کو حذف کیا اور جَاءَجو اَحَدٌ میں عامل تھا اب وہ زَیْدٌ میں عامل ہوگیالہٰذا زَیْدٌ فاعل ہونے کی بنا پر مرفوع ہے۔ اگر عامل نصب کا تقاضا کرے تو مستثنیٰ منصوب ہوگا ۔جیسے:مَارَأَیْتُ اِلاَّزَیْداً۔اگر عامل جر  *
Flag Counter