(ج)جب مستثنیٰ منقطع ہو (۲)۔
(د)جب مستثنیٰ
مَاخَلَا، مَاعَدَا، لَیْسَ،
یا لَایَکُوْنُ کے بعد واقع ہو(۳) ۔
(ہ) اکثر علماء کے نزدیک جب مستثنیٰخَلَا اورعَدَا کے بعدواقع ہو۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* کی تفصیل عنقریب آرہی ہے۔
1۔۔۔۔۔۔مستثنیٰ کی پہلی قسم جسے نصب دینا واجب ہے۔ اس کی چار صورتیں ہیں: (۱)مستثنیٰ اِلَّا کے بعدواقع ہو اور کلام موجَب ہو۔جیسے:جَاءَ ِنیْ الْقَوْمُ اِلَّا زَیْداً(میرے پاس قوم آئی مگر زید نہ آیا) (ف)کلام موجَب وہ کلام جس میں نفی ، نہی اور استفہام موجود نہ ہو، اگران میں سے کوئی چیز موجود ہوتو کلام غیر موجَب کہلائے گا۔(۲)کلام غیر موجب ہو اور مستثنیٰ ، مستثنیٰ منہ سے مقدم ہو۔جیسے:مَا جَاءَ نِیْ اِلَّا زَیْداً اَحَدٌ(میرے پاس زید کے علاوہ کوئی نہیں آیا) (۳)مستثنیٰ منقطع ہو۔خواہ کلام موجب ہویاغیرموجب۔ جیسے:جَاءَ نِیْ الْقَوْمُ اِلَّا حِمَاراً، مَا جَاءَ نِیْ الْقَوْمُ اِلَّا حِمَاراً۔(۴)مستثنی مَاخَلَا، مَاعَدَا، لَیْسَ یا لَایَکُوْنُ کے بعد واقع ہو۔ جیسے:جَاءَ نِیْ الْقَوْمُ مَاخَلاَ زَیْداً۔(ف)اگر مستثنیٰ خَلَایاعَدَاکے بعد واقع ہوتو اکثر نحویوں کے نزدیک منصوب ہوگا اور بعض نحاۃ ان حروف کواستثناء کے وقت بھی حروف جر قرار دیتے ہیں ان کے نزدیک مستثنیٰ مجرور ہوگا ۔جیسے:جَاءَ نِیْ الْقَوْمُ خَلاَ زَیْداً یا زَیْدٍ۔
2۔۔۔۔۔۔ خواہ کلام موجب ہویاغیرموجب۔ جیسے :جَاءَ نِی الْقَوْمُ اِلَّا حِمَاراً، مَا جَاءَ نِی الْقَوْمُ اِلَّا حِمَاراً۔
3۔۔۔۔۔۔ جیسے:جَاءَ نِی الْقَوْمُ مَاخَلَا زَیْداً ومَاعَدَا زَیْداً۔