Brailvi Books

نحو مِير
129 - 202
گیاہو۔ مثلاً:
جَاءَ نِی الْقَوْمُ اِلَّا زَیْداً(۱)۔
اس میں زَیْداً کو جو قوم میں داخل ہے اِلَّاکے ذریعہ حکم مجیئت سے خارج کردیاگیاہے۔

(ب)۔۔۔۔۔۔مستثنیٰ منقطع کی تعریف(۲): 

    وہ مستثنیٰ جواِلاَّوغیرہ کے بعدمذکورہومگرمتعددکے حکم سے خارج نہ کیاگیاہو کیونکہ وہ متعدد میں داخل ہی نہیں ہے۔ جیسے:
جَاءَ نِی الْقَوْمُ اِلَّا حِمَاراً(۳)۔
کہ گدھاقوم میں داخل نہیں ۔

مستثنیٰ کا اعراب(۴)

    مستثنیٰ کے اعراب کی چارقسمیں ہیں:
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔جَاءَ نِیْ الْقَوْمُ اِلَّا زَیْداً۔زیدچونکہ قوم کا ایک فردہے لہٰذاجب قوم کی طرف مجیئت کی نسبت کی گئی تو زید کی طرف بھی اس کی نسبت ہوگئی لیکن اِلَّا زَیْداً کہہ کر اسے حکم مجیئت سے خارج کردیاگیامعنی یہ ہوگا:''میرے پاس قوم آئی مگر زید نہیں آیا'' ۔

فائدہ:مستثنیٰ کی دوقسمیں ہیں:(۱)مستثنیٰ متصل :وہ اسم جسےاِلَّا وغیرہ کے ذریعہ متعددسے خارج کردیا جائے ۔جیسے:جَاءَ ِنیْ الْقَوْمُ اِلَّا زَیْداً میں زید قوم کا ایک فرد ہے لیکن حکم آمد میں اسے قوم سے خارج کردیاگیاہے۔

2۔۔۔۔۔۔ (۲) مستثنیٰ منقطع:وہ اسم جسے اِلَّا وغیرہ کے ذریعہ متعدد سے نکالا نہ گیا ہوبلکہ وہ پہلے ہی سے خارج ہو۔ جیسے:جَاءَ نِیْ الْقَوْمُ اِلَّا حِمَاراًمیں حِمَارْ کو قوم سے خارج نہیں کیاگیا؛ کیونکہ وہ پہلے ہی سے خارج ہے۔ خلاصہ یہ کہ اگر مستثنیٰ، قبل از استثناء مستثنیٰ منہ میں داخل ہو تواسے''مستثنیٰ متصل''اور داخل نہ ہوتواسے''مستثنیٰ منقطع''کہتے ہیں۔

3۔۔۔۔۔۔جَاءَ ِنیْ الْقَوْمُ اِلَّاحِمَاراً۔ میں چونکہحِمَارْ قوم کا فردہی نہیں اس لیے حکم مجیئت میں وہ داخل ہی نہیں تھااس کے باوجود اس کا استثنا کیاگیاہے لہٰذا یہ مستثنیٰ منقطع کہلائے گا۔

4۔۔۔۔۔۔مستثنیٰ کبھی منصوب ہوتاہے،کبھی اسے نصب دینا اور عامل کے مطابق اعراب دینا دونوں جائز ہوتاہے، کبھی اسے صرف عامل کے مطابق اعراب دیاجاتا ہے اور کبھی اس پرجر آتی ہے۔اس
Flag Counter