الدین محمد ابن محمد عطار بخاری سے تصوف کی تعلیم حاصل کی۔سید کہا کرتے تھے'' جب تک میں حضرت عطار بخاری کی خدمت سے مشرف نہیں ہوا تھا۔اللہ تعالی کو جیسے چاہیے تھا نہیں پہچانتا تھا''۔
۷۷۰ھ میں بادشاہ شجاع الدین مظفر ''قصرزرد''میں مقیم تھا۔ میر سید نے اس تک رسائی کے لیے عجیب طریقہ نکالا۔فوجیوں کا لباس پہن کر راستہ میں کھڑے ہوگئے۔علامہ تفتازانی بادشاہ کے پاس جارہے تھے کہ راستے میں میر سید مل گئے اور کہنے لگے میں مسافر ہوں اور تیر اندازی میں مہارت رکھتا ہوں ، آپ بادشاہ سے سفارش کریں کہ مجھے ملاقات کا موقع دیا جائے۔علامہ کی سفارش پر بادشاہ نے انہیں طلب کیا اور کہا کہ تیر اندازی کا مظاہرہ کرو۔میر سید نے جیب سے کاغذات کا ایک مجموعہ نکال کر پیش کیا جس میں مختلف مصنفین پر اعتراضات تھے اور کہا کہ یہ میرے تیر ہیں اور یہ میرا فن ہے۔علامہ تفتازانی کے فضل وکمال کے سامنے اس جرأت کا مظاہرہ کرنا سید ہی کا کا م تھا۔بادشاہ نے سید کا بڑا احترام کیا اور اپنے ساتھ''شیراز''لے جا کر مدرسہ دار الشفا کا مُدَرِّس بنادیا۔ سید سند دس۱۰ سال تک وہاں درس وتدریس میں مصروف رہے۔
جب تیمور لنگ نے''شیراز''پر حملہ کیا اور فتح کے بعد لوٹ مار کا بازار گرم ہوا، تو ایک وزیر کی سفارش پر سید کو پناہ ملی۔تیمور انہیں اپنے ساتھ ''وراء النہر''لے گیا۔میر سید ،''سمرقند''میں فرائض تدریس انجام دیتے رہے۔اس زمانے میں علامہ تفتازانی تیمور کی مجالس کے صدرالصدور تھے تیمور کہا کرتے تھے کہ اگرچہ علم وفضل میں دونوں برابر ہیں لیکن سید کو نسبی اعتبار سے تفتازانی پر فضیلت حاصل ہے۔
تیمور لنگ کی سلطنت کی وسعت کا یہ عالم تھا کہ دنیا کا اکثر حصہ اس کے زیر نگیں تھا میر سید کو اس کے دربار میں تقرب حاصل تھا۔ایک دفعہ میر سید نے علامہ تفتازانی کے حواشی ''کشاف''پر اعتراض کیا۔زیر بحث ''کشاف''کی وہ عبارت تھی جس میں